اگر قلم خاموش ہو جائے اور کتاب سے رشتہ ٹوٹ جائے، تو قومیں فکری بانجھ پن کا شکار ہو کر ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں
کوئٹہ(مسائل نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی روح اس کے تعلیمی نظام میں پنہاں ہوتی ہے۔ اگر قلم خاموش ہو جائے اور کتاب سے رشتہ ٹوٹ جائے، تو قومیں فکری بانجھ پن کا شکار ہو کر ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے تعلیم کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کردہ اپنےخصوصی پیغام میں کیا۔انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ڈگری کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ واحد راستہ ہے جو معاشرے میں امن، پائیدار ترقی اور حقیقی خوشحالی کی ضمانت دیتا ہے۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ دنیا کے نقشے پر صرف وہی اقوام سربلند ہوئیں جنہوں نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور علم و تحقیق کو اپنی قومی ترجیحات میں سرِفہرست رکھا۔صوبائی مشیر نے خواتین کی تعلیم کو معاشرتی انقلاب کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم ایک مرد کو پڑھاتے ہیں تو ایک فرد کو علم دیتے ہیں، لیکن جب ہم ایک عورت کو پڑھاتے ہیں تو ہم ایک پورے خاندان اور آنے والی نسل کی فکری آبیاری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا خواب تعلیم کے بغیر شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔تعلیم ہی وہ قوت ہے جو معاشرے سے دقیانوسی تصورات اور صنفی امتیاز کی دیواروں کو گرا سکتی ہے۔ موجودہ چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ آج ہمیں جن بڑے مسائل کا سامنا ہے، چاہے وہ غربت ہو، انتہا پسندی ہو یا سماجی ناانصافی، ان سب کا واحد علاج فعال تعلیمی ادارے اور کتب بینی کا فروغ ہے۔ ایک پڑھا لکھا فرد ہی ایک مضبوط، مستحکم اور باوقار قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔ کتاب اور قلم سے دوری ہی دراصل کسی بھی قوم کے زوال کا نقطہ آغاز ہوتی ہے۔تعلیم کے شعبے میں موجودہ صوبائی حکومت کے وژن کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ صوبائی حکومت تعلیمی بجٹ کو محض اخراجات کے بجائے انسانی وسائل میں ایک طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھتی ہے، جس کا مقصد پالیسی سازی اور زمینی حقائق کے درمیان موجود خلیج کو ختم کر کے تعلیمی نیٹ ورک کو بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں تک عام کرنا ہے۔