MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب کے بعد ڈینگی، جلدی انفیکشنز اور دیگر بیماریوں کا راج

2 228

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ایم فاروق انجم
پاکستان میں موسمیاتی آفت کا اس سے زیادہ خراب وقت کوئی نہیں ہو سکتا، جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی ادائیگیوں کے توازن کے بحران، بڑھتے ہوئے قرضوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے نبرد آزما تھی’۔
سیلاب کی تباہی کے بعد اگر ملک کو بیرونی قرضوں میں ریلیف نہیں ملتا ہے تو معاشی بحران یعنی دیوالیہ پن کا خطرہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک تباہ کن بارشوں سے ملک کا بڑا حصہ پہلے ہی زیرِ آب ہے،
گھر، سڑکیں، ریلوے، فصلیں، مویشی اور ذریعہ معاش شدید موسمی تبدیلی کی نظر ہو گیا۔ پاکستان کی معیشت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ زراعت سے منسلک ہے تو ایسے میں حکام اب کہتے ہیں کہ غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے ہونے والا نقصان 35 سے 40 بلین ڈالر تک ہو سکتا ہے۔
ملک بھر میں ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ مویشی، جو دیہی آبادی کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں، سیلاب میں ضائع ہو گئے ہیں۔ جن کسانوں کےمویشی بچ گئے ہیں انھیں اب ان کے لیے چارہ پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ممکنہ طور پر خوراک کے بحران کی وجہ سے آگے مزید تکلیف ہوگی۔
چاول اور مکئی کے ساتھ پیاز کی تقریباً 70 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا چاول برآمد کرنے والا ملک ہے جو یہ افریقہ اور چین کو بھی بیچتا ہے۔
پاکستان کے تقریباً تمام گھرانوں کا انحصار گندم پر ہے۔ لیکن اتنی زیادہ زرعی زمین کو نقصان پہنچنے سے گندم کی فصل بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
فصلوں، جانوروں، گھروں اور جانی نقصانات کے بعد سیلاب کی وجہ سے جلدی بیماریوں، ہیضہ اور ڈینگی بخار نے سیلاب زدہ علاقوں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے جلدی امراض کے 10 ہزار 902 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سیلابی صورتحال اور کئی مقامات پر پانی کھڑا رہنے کے باعث ملک کے کئی حصوں میں جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔
بلوچستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے اور یہاں بھی پانی سے پھیلنے والی دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔
پاکستان کے تمام صوبوں میں جلدی انفیکشنز کے بعد دوسرے نمبر پر اسہال کے نو ہزار 904 کیس رپورٹ ہوئے، تیسرے نمبر پر سانس کی بیماریوں کی مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی جن کی تعداد نو ہزار 680 تھی۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے ملیریا کے دو ہزار 767 کیس رپورٹ ہوئے۔
گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف علاقوں سے سانپوں کے ڈسنے کے 137 جبکہ کتے کے کاٹنے کے 15 کیسز رپورٹ ہوئے۔
جہاں اب تک پانی کھڑا ہے ان علاقوں میں سانپ اور کتے بھی ان خشک مقامات کا رخ کر رہے ہیں جہاں متاثرین نے پناہ لے رکھی ہے
جہاں تک ڈینگی کا معاملہ ہے پاکستان اس سے قبل بھی ڈینگی کی وبا کا شکار ہو چکا ہے،اس کے باعث 2017 اور 2011 میں ملک کو سنگین حالات سے گزرنا پڑا۔ 2021 میں بھی یہی صورتحال رہی، جب ملک کورونا وائرس کی دوسری لہر کا شکار تھا،اسی دوران ڈینگی کے کیسز بھی بڑھ گئے، اب ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر یا دو سال میں ایک بار اس وباء کا سامنا کرنا پڑے گا،اس بار انفیکشن کی بلند شرح سیلاب کے با عث بڑھ سکتی ہے۔
بہر حال، ڈینگی کا پھیلاؤ، ایک ایسے وقت میں جب صحت کے بنیادی ڈھانچے پر پہلے سے زیادہ بوجھ پڑا ہوا ہے،ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور سیلاب کی وجہ سے صحت کی سہولیات کمزور ہونے کا بہانہ نہیں ہو سکتا،حکومت کو ڈینگی وباء کی صورتحال میں ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنا ہوگا۔
حکومت کو ڈینگی سے متعلق آگاہی کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے، جلد از جلد فیومیگیشن مہم چلانی چاہیے۔ اگر یہ نہیں کیا گیا تو کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، وہ جگہیں جہاں پانی کھڑا ہوا ہے نہ صرف ڈینگی بلکہ دیگر مہلک بیماریوں اور وبائی امراض جیسے ملیریا اور گیسٹرو کے لیے موزوں حالات فراہم کرتا ہے، اس لئے اس حوالے سے حکومت کو جلد اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

2 Comments
  1. […] آباد(مسائل نیوز) سیلاب سے معاشی نقصانات،وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف اہداف پر نظر ثانی کا فیصلہ […]

  2. […] نیوز) لاہور میں کروڑوں روپے مالیت کی گندم پڑے پڑے خراب ہوگئی۔صوبائی دارالحکومت میں کروڑوں روپے مالیت کی گندم […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.