عمران خان نے ’توشہ خانہ‘کا حساب دے دیا
اسلام آباد (مسائل نیوز)سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانے سے ملنے والے تحائف کا جواب دے دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے مینار پاکستان میں ‘ امپورٹڈ حکومت نامنظور’ کے تحت منعقد کئے گئے فقید المثال جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ توشہ خانہ کیا ہے؟ آپ کو بتاتا ہوں۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیروں کو جو بھی تحفہ ملتا ہے وہ توشہ خانہ میں جاتاہے، ان کےدور میں توشہ خانہ میں پندرہ فیصدادائیگی کرکےتحفہ خریداجاسکتاتھا جبکہ ہمارےدور میں ادائیگی کی رقم پچاس
- Advertisement -
فیصد کردی گئی۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج مجھ پرالزام لگایاجارہاہےکہ توشہ خانہ سے چیزیں لی ہیں، آپ کو بتاؤ کہ میں نےقانون کے مطابق توشہ خانہ سے چیزیں خریدیں، توشہ خانہ کے پیسوں سےخود سڑکیں ٹھیک کرائی، حکومت سے ایک پیسہ نہیں لیا۔امپورٹڈ حکومت نامنظور جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ کیمپ آفس بنا کر عوام کا پیسہ خرچ کرسکتا تھا لیکن میں نےایسا نہیں کیا، چیلنج ہے کہ ایسا وزیراعظم رہاہوں جس نےاپنی ذات پر انتہائی کم رقم خرچ کی ہے، جوچیز میں نے توشہ خانہ سےخریدی وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ خزانہ لوٹنے والے ڈاکوؤں کو قوم پر مسلط کیا گیا، ضمانت پر رہا شخص وزیراعظم بن گیا جبکہ اُس کے بیٹے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا، شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر صرف ایف آئی اے میں چالیس ارب روپے کے کیسز زیر التوا ہیں، مقدمات کھلنے کے بعد سلمان شہباز ، شہباز شریف کا داما، نوازشریف کے دونوں بیٹے، اسحاق ڈار بھی بیرون ملک فرار ہوگئے اور ان لوگوں کو ہمارے اوپر مسلط کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرداری پر اربوں روپے کرپشن کے کیسز ہیں، وزیراعلیٰ پر بھی کیسز ہیں، میں نے وزارتِ عظمیٰ میں ان کیسز کو آگے بڑھانے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا، جن لوگوں کو جیل میں ہونا تھا وہ وزیراعظم بن گئے یا وزیراعلیٰ بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سابق وزیراعظم عمران خان سے بحیثیت وزیراعظم ملنے والے اپنے پاس رکھنے کے لیے دی گئی قیمت کی منی ٹریل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے ان کے سرمائے میں توشہ خانہ سے جتنا اضافہ ہوا اتنا زندگی بھر کے سرمایے میں نہیں ہوا۔ انہوں کہا کہ پاکستان کی معیشت تباہ کرنے والے معاشی دہشتگردوں نے اپنے دور میں معاشی اشاروں پر بھی جھوٹ بولا یہ جھوٹے ہیں ان کا مقصد جھوٹ بولنا ہے ملک میں مہنگائی، قرضوں، بے روزگاری سمیت خراب خارجہ پالیسی کے ذمہ دار ہیں عمران خان نے وزیراعظم کی کرسی کو کاروبار کی کرسی بنائی ہوئی تھی عمران خان کو جو تحفے ملے ان کو کم قیمت پر لیاصرف گھڑی اٹھارہ کروڑ میں فروخت کر دی بیس فیصد پر تین چیزیں خریدیں گئی تھیں عمران خان جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ معاشی دہشت گرد اپنے دور میں جو معاشی اشاریوں پر جعل سازی کرتے ہوئے وہی گردان آج صبح، دوپہر شام کر رہے ہیں، یہ جھوٹے ہیں اور ان کا مقصد جھوٹ بولنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ کے علاوہ ان کی چار سالہ کارکردگی مہنگائی، قرض، بے روزگاری، خارجہ پالیسی، منصوبوں کی عدم تکمیل پر کم ہی شروع نہیں ہوا لیکن اب ان پر کام شروع کر رہے ہیں۔ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ توشہ خانہ سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ میرا تحفہ میری مرضی لیکن ایسا نہیں ہے یہ پاکستان کے وزیراعظم کے تحفے ہیں، مانا کہ آپ سلیکٹ ہو کر وزیراعظم بنے تھے لیکن وہ تحفہ 20 فیصد قیمت پر لے کر 4 گنا زیادہ قیمت پر بیچنا آپ کی مرضی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تحفہ ضرور تھا لیکن آپ کی دکان نہیں تھی، توشہ خانہ کسی بھی حکومت کے اندر بیت المال ہوتا ہے اور اس کے اندر تحفہ اپنے رکھنے کی مقررہ قیمت پر رکھ سکتے ہیں لیکن ان کو بازاروں میں بیچا نہیں سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کرسی کا کچھ پتہ نہیں ہے، اس کرسی پر بیٹھ کر مخالفین کو سزائے موت کی چکیوں میں ڈالتے رہے، گالیاں دیتے رہے، دھمکیاں دیتے رہے، غنڈہ گردی اور بدمعاشی کرتے رہے، میڈیا اور پارلیمنٹ کی آواز بند کرتے رہے، لہٰذا انہیں کرسی کے تقاضے تو پتہ نہیں لیکن بطور وزیراعظم انہیں جو تحائف ملے تھے، ان کو کم قیمت پر لیا اور اس کو 4 گنا زیادہ قیمت پر بازاروں میں فروخت کیا۔ وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ ان تحائف وہ مشہور گھڑی بھی شامل ہے، کفلنکس اور انگوٹھی جس کی قیمت 14 کروڑ تھی، جس کو موصوف نے 3 کروڑ میں لیا اور جو اطلاعات آرہی ہے وہ 18 کروڑ کا بیچا۔انہوں نے کہا کہ یہ تحفے 20 فیصد پر رکھ سکتے تھے جبکہ آج کل جو بیانیہ بنا رہے ہیں ہم نے 50 فیصد کر دیا تھا لیکن یہ تینوں چیزیں 20 فیصد پر رکھا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پھر جھوٹ بول رہے ہیں، ان تحفوں کو 20 فیصد پر رکھا گیا، عمران خان کی ایف بی آر کی تفصیلات دیکھیں تو انہوں نے جتنا توشہ خانہ سے ان کے سرمایے میں جو اضافہ ہوا ہے، اتنا ان کی پوری زندگی کے سرمایے میں کبھی اتنا اضافہ نہیں ہوا۔ عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم کی کرسی کو کاروبار کی کرسی بنایا ہوا تھا اور وہ اس میں کاروبار کرتے رہے ہیں۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ سابق وزیراعظم نے پوری زندگی میں جو کاروبار کیا ہے، اس کے بارے میں 2 کروڑ کی ڈیکلیریشن ہے، پھر ان کے اثاثے 2 کروڑ 80 لاکھ کے ہوگئے، اس کے بعد جب زمان پارک کا گھر شامل ہوا تو مجموعی جائیداد 14 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔انہوں نے کہا کہ توشہ خانہ کے اندر پہلے دومہینوں میں عمران خان کی جائیداد میں 8 کروڑ 50 لاکھ اضافہ ہوا، اس کے بعد ساڑھے 4 سال میں 58 تحائف اپنے پاس رکھے ہیں، اس کی مالیت شامل کریں تو وہ 14 کروڑ 20 لاکھ بنتی ہے تو ان کی پوری زندگی کی آمدن ملائی جائی اور صرف توشہ خانہ سے ہونے والی آمدن ملائی جائی تو اتنی کبھی نہیں بڑھی۔ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ تحائف رکھے ہیں اس کی منی ٹریل کہا ہیں، پہلی قسط میں جو 3 کروڑ دیے ہیں، اس کی منی ٹریل دے دیں کیونکہ پہلے سال کی ایف آر میں اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ آپ کے 3 کروڑ روپے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں آپ کی مرضی نہیں چلے گی کیونکہ دوسرے سے آپ نے 40 سال کا حساب مانگا، دوسرے سے کہا کہ مرحوم والدین کا بھی حساب اور رسیدیں دو، 14 کروڑ کی چیزوں کو 3 کروڑ دے کر حاصل کیا گیا اور 18 کروڑ میں گھڑی بیچی گئی اور اس کے بعد 50 فیصد کردیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا دو مہینے کا سرمایہ 8 کروڑ 50 لاکھ ہے اور اس کے بعد 4 سال کا حساب لگایا جائے تو وہ 14 کروڑ 20 لاکھ ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو 58 تحفے اپنے پاس رکھے ہیں، اس کا بھی بتادیں، عمران خان کی اہلیہ کا ایف بی آر میں اندراج 2018 کا ہے، جس میں ان کا پرانا نام ہے، اس لیے اس کی تفصیلات بھی ضروری ہیں۔الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ایک کمیٹی بنائی تھی اور فرخ حبیب سے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ڈیکلیئرڈ اکاؤنٹس پر کوئی اعتراضات ہیں تو وہ لے کر آئیں کیونکہ پی ٹی آئی کی فنڈنگ پر اکبر ایس بابر نے اعتراضات اٹھائے تھے اور اس پر کیس بنایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد ان سے سوال پوچھو تو پھر دوسروں پر الزام، گالی، دھمکی دیتے ہیں، الیکشن کمیشن کی اس کمیٹی میں آج تک پی ٹی آئی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارٹی فنڈنگ کے اوپر نہیں لگایا۔ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب کینٹینر پر ہوں گے تو اس میں اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے، روبوٹک ٹوئٹس کے ذریعے سوفٹ ویئر کے ذریعے وہ بوٹس ٹوئٹس ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ جہاں بوٹک اور روبوٹک سوفٹ ویئر کے ذریعے اداروں کے خلاف مہم چلانے کے لیے عمران خان نے منظم مہم چلائی ہوئی ہے، اس پر فوراً کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کو ختم کیا جائے گا اور روبوٹک ٹوئٹس کی نشان دہی کی جائے گی، وزارت اطلاعات کے اندر اس کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اس کی فہرست پی ٹی اے کو فراہم کی جائے گی جبکہ پی ٹی اے کے اندر ان کا اپنا میکنیزم ہے، جس کے ذریعے شناخت شروع ہوچکی ہے۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ میں خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ جہاں جہاں یہ نصب ہیں، سگنلز سے وہ بھی پتہ چل سکتا ہے، وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن جگہوں پر یہ روبوٹک ٹوئٹس ہیں، اداروں کے خلاف مہم پر زیرو ٹالرنس ہے، اداروں کے خلاف اس طرح کی مہم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مریم اورنگ زیب نے سابق وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جلسے میں ہوں جو نقلی خط کا ایک بیانیہ بنایا ہوا ہے، تو کچھ خطوط کے جواب پاکستان کے عوام بھی مانگتیہیں، جس کا ضرور جواب دیں۔انہوں نے کہا کہ 4 سال کی کارکردگی کا جواب دیں، ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں، کشمیر فروشی، خارجہ پالیسی کی تباہی، پاکستان کے عوام کو بھوکا کرنے، مہنگائی کی شرح 3.9 فیصد سے 16 فیصد تک گئی ہے، اس کا جواب دیجیے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے بعد 43 ہزار ارب قرضوں کا اضافہ کیا ہے اس کا جواب دیں، 70 سال میں پاکستان کی تاریخ میں قرضوں میں جتنا اضافہ نہیں ہوا وہ عمران خان کے دور میں ہوا، اس کا جواب دیں۔عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ دو کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے گئے، 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا، اس کا جواب دیجیے گا۔انہوں نے عوام سے کہا کہ یہ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ غداری کے سرٹیفکیٹس دینے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا ملک کو ترقی دینی ہے، اپنے روزگار کا بندوبست کرنا ہے اور اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ یہ موضوع بدلنے کا مقصد صرف اور صرف اپنی نالائقی اور نااہلی، اپنے جھوٹ، اپنی منافقت اور لوٹ کھسوٹ چھپانے کے لیے کنیٹینر پر چڑھ کر گفتگو ہو رہی ہے، اس کے علاوہ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جو سائفر ہے وہ خود لکھوایا گیا، سیلڈ لفافے میں سیکریٹری کے ذریعے بھیجا گیا اور دفترخارجہ کو بائی پاس کیا گیا، جس کا قومی سلامتی کمیٹی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے تفصیل سے جواب دیا ہے۔دھمکی آمیز خط سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ باقی تفصیلات وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی کا اعلان کیا ہے وہ جلد بنے اور دیگر جوابات پاکستان کے عوام کے سامنے آئیں گے۔مریم اورنگ زیب نے کہا کہ پاکستان کے عوام آج یہ سوالات ضرور کریں کہ 2018 میں 90 دنوں میں کرپشن ختم کرنے، 100 دنوں کا منصوبہ آئے گا تو معاشی صورت حال بہتر ہوجائے گی لیکن عوام کو 4 سال میں بھوکا، غریب اور بے روزگار کیا، ان سے دوائی، آٹا، چینی اور ان کی خود داری اور خود مختاری چھینی اور قرضوں میں ڈبو دیا، ان تمام سوالوں کے جواب عمران خان کو دینے پڑیں گے۔