MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ای او بی آئی پینشنرز مسائل سے دو چار ۔۔۔۔!!

1 200

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالمکار: جاوید صدیقی

- Advertisement -

ای او بی ای حکومتی ادارے میں پرائیوٹ فیکٹریز ملز کارخانوں اور نجی شعبوں نجی اداروں کے ملازمین کی تنخواہ سے کٹوٹی کرکے ای او بی ای میں دی جاتی ھیں۔ تمام ورکرز کے ریٹائرڈمنٹ کے بعد اسی فنڈ سے ورکرز کو ای او بی ای میں جمع شدھ فنڈ سے پنشن جاری کی جاتی ھے۔ گزشتہ تین سال قبل سے ساڑھے آٹھ ہزار روپے پنشن ملتی چلی آرھی ھے، مذید پنشن میں اضافہ کیلئے جدوجہد جاری ھے۔ اس سلسلے میں مرکزی وزیر ساجد حسین طوری صاحب کو پنشن میں اضافے کیلئے خطوط لکھے گئے۔ ان خطوط کا متن کچھ اس طرح سے تھا۔۔۔ قاضی عبدالجبار صاحب
ورکرز کو پنشن بدقسمتی سے انہیں معمولی رقم ‏ساڑھے آٹھ ہزار روپے فی مہینہ مل رھی ھے جو پچھلے تین سالوں سے جاری ھے۔ آپ نے مختلف نمائندوں سے دو بار وعدہ کیا کہ ای او بی آئی پنشن میں کم از کم اجرت روپے کے برابر اضافہ کیا جائیگا یعنی پچیس ہزار روپے فی ماہ لیکن تا حال حکومت اور ہی ای او بی آئی کیجانب سے پنشن میں اضافے کے بارے میں کوئی اعلان نہ کیا گیا۔ ھم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ براہ کرم فوری طور پر پنشن میں اضافے کا اعلان کریں اور بوڑھے ضعیف پنشنرز کی طرف سے دعاؤں کا اجر لیں۔ واضح رہے کہ ای او بی آئی کے پاس پنشن بڑھانے کیلئے کثیر فنڈ موجود ہے۔ اسی بابت شمس الدوحہ زبیری نائب صدر ای او بی آئی نے بھی اپیل کی۔ وہ لکھتے ھیں جناب ساجد حسین طوری صاحب وفاقی وزیر برائے او پی اینڈ ایچ آر ڈی اسلام آباد۔ امید ہے آپ خیریت سے ھونگے. میں آپکی توجہ ان مستحق ای او بی آئی پنشنرز کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جو نجی اور نیم سرکاری تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں اور اوسطاً چالیس سال سروس کرچکے ہیں۔ سروس کے دوران انکی تنخواہوں سے رقم کاٹی گئی اور ای او بی آئی فنڈ میں جمع کرائی گئی، اس امید پر کہ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اچھے دنوں اور وہ اپنی روٹی اور مکھن گزارنے کیلئے کافی پنشن حاصل کرسکیں گے۔۔۔۔ معزز قارئین!! بڑے دکھ و الم کی بات ھے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ھونے کے باوجود اس ملک میں ورکرز در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نظر آتے ھیں جبکہ دوسری جانب اشرفیہ سے لیکر نوکر شاہی طبقہ تخت بادشاہی سجائے بیٹھا ھے۔ ان کمزور محنت کشوں کی کمائی کو اس طرح ڈکار لیتے ھیں جیسے یہ ملک ان کے باپ کی جاگیر ھو۔ یوں تو آئین پاکستان اور دستور پاکستان میں محنت کشوں کے حقوق کیلئے قوانین تحریر ھیں مگر افسوس ان تحریروں پر عمل ھوتا دکھائی نہیں دیتا اور یہ سیاستدان و حکمران ایک نمبر کے جھوٹے فاسق اور دھوکہ باز ھے کہتے کچھ ھیں کرتے کچھ ھیں گویا منافقت میں پی ایچ ڈی کی ھو۔ آج جو ملک کے معاشی و اقتصادی ابتر حالات ھیں ان حالات کے براہ راست قصور وار اور ذمہدار یہی سیاستدان و حکمران اور نوکر شاہی طبقہ ھے۔ بات اگر کی جائے میڈیا انڈسٹری کی تو وہاں بھی ای او بی آئی کا کوئی مناسب طریقہ کار نہیں، اس کی سب سے بڑی مثال میں خود ھوں۔ اٹھارہ مارچ سنہ دو ہزار ایک کو اےآروائی ڈیجیٹل میں تعینات ھوا اس وقت اےآروائی کا صرف یہی ایک چینل تھا اور یکم اکتوبر سنہ دو ہزار انیس تک رھا یہ تقریباً انیس سال کا دورانیہ بنتا ھے جبکہ مجھے ای او بی آئی کا کارڈ صرف چھ سال کا دیا اس کم عرصہ پر بہت احتجاج کیا مگر انتظامیہ کے جیسے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب تین سال سے بیروزگار ھوں اور ساٹھ سال میں دو سال رہ گئے ھیں گویا ای او بی آئی کے قانون کے مطابق مجھے حق نہیں مل سکے گا یعنی پینشن سے محروم کردیا جاؤنگا۔ اللہ ہی اس نااصافی پر پوچھے گا۔ یہ ملک کن کے ہاتھوں میں ھے اور کس طرف جارھا ھے ظلم و بربریت اور ناانصافی کمال حد تک بڑھ چکی ھے گویا ریاست کو کھلونا بنادیا گیا ھو۔جہاں سیاستدان و حکمران فرعون، شداد اور یذید بننے بیٹھے ھیں وہیں کفر کے ہار پہنے میڈیا کے مالکان شرم و حیا سے عاری نظر آتے ھیں۔ بحرکیف کل بھی اور آج بھی ای او بی آئی کے بوڑھے و ضعیف پینشنرز مسائل و مشکلات سے دوچار ھیں اور اپنے حقوق سے محروم بھی ھیں اور اب بھی ہورہے ھیں نجانے یہ سلسلہ کب تک جاری رہیگا بہتر یہی ھے کہ ان کی آسانی کیلئے حکومت پاکستان ایک اپلیکیشن تیار کرلے تاکہ ضروری دستاویزات و دیگر معلومات اسی موبائل اپلیکیشن کے ذریعے طب اور بہم کرسکیں۔ یہاں نعرے بہت ہیں وعدے، دعوے اور عہد و پیماں بے پناہ مگر عملی اقدام صفر نظر آتے ھیں یہ ھمارے حکمرانوں کی بدنیتی بے ایمانی خیانت اور غیر سنجیدگی نظر آتی ھے گویا وہ اپنے ملک و قوم سے مخلص ہی نہیں۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز ساجد حسین طوری نے کہا ہے کہ حکومت رواں سال 10 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.