ٹرانس جینڈر پر سیاست
عبد الغنی شہزاد
- Advertisement -
آج کل پاکستان میں سیاست سوشل میڈیا کے ارد گرد چلنی شروع ہوگئی ہے ، جس سے تقریباً ہر بالغ پاکستانی متاثر ہے، منٹوں سکینڈوں میں کوئی بھی معاملہ بغیر تحقیق کے پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے ، گزشتہ دنوں سے ٹرانس جینڈر ایکٹ کی بازگشت سنائی دینے کے بعد زبردست طور پر سیاست کی بھینٹ چڑھ گئی، بدقسمتی سے پاکستان میں ہر حساس مسئلے پر سیاست کی جاتی ہے جس سے مخالف اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرکے عزائم کی تکمیل میں لوگوں کو گمراہ کرنے سے گریز نہیں کرتا ، حقیقت یہ ہے کہ یہ بل قومی اسمبلی نے 2018 میں ایسے ڈرامائی انداز میں کم تعداد اراکین کے ذریعے پاس کروایا گیا کہ اکثر اراکین کو علم ہی نہیں ہوا کہ اس میں ہے کیا، اس اس وقت ایوان میں موجود جمعیت علماء اسلام کی خاتون رکن نعیمہ کشور صاحبہ موجود تھیں ، انہوں نے مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا۔
یہ وہ ایام تھے کہ ایک طرف ختم نبوت بل میں ترمیم پر جمعیت علمائے اسلام سراپا احتجاج تھی تو دوسری طرف نواز حکومت کو ختم کرنے کی سازشیں جاری تھیں، اسی اثنا میں پارلیمنٹ کا آخری سیشن بلایا گیا،جس میں بل کے حق میں جو ممبران تھے ان کو مطلع کر کے بلایا گیا تھا، نعیمہ کشور کے احتجاج اور بل کو کمیٹی کے پاس بھیجنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے بل منظور کیا گیا، بظاہر اس بل میں خواجہ سراؤں سے ہمدردی کی آڑ میں کچھ سنگین نوعیت کے غیر شرعی نکات شامل کئے گئے تھے جو اس وقت کسی کو علم نہیں تھا، وہ نکات آئین پاکستان کے بھی متصادم ہیں، کیوں کہ قرآن وسنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا ،اس حوالے سے بعض آزاد خیال لوگوں نے مذہبی حلقوں پر شدید تنقید شروع کی ہے کہ وہ ہر معاملے پر شور کرتے ہیں، اس حوالے سے تمام مکاتب فکر علمی پلیٹ فارم جس کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی ہیں نے ریسرچ اور تحقیق کے بعد متفقہ طور پر اس بل کو غیر آئینی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس بل کے تحت کوئی بھی شخص نادرا جاکر اپنے آپ کو مرد یا عورت کہہ کر جنس تبدیل کر سکتا ہے اور پھر نادرا تحقیق کا بھی مجاز نہیں حالانکہ دوسرے ممالک میں میڈیکل چیک اپ لازمی ہے مگر پاکستان میں چیک اب بھی ضروری نہیں ہے اور ان کو وہی حقوق آئینی طور پر حاصل ہوں گے جو جنس کے طور پر ان کا شناختی کارڈ ہے یعنی اگر کوئی مرد شناختی کارڈ میں عورت درج ہے تو وہ قانوناً عورت کہلاتے ہوئے کسی مرد سے شادی کا اہل ہوگا جو کھلم کھلا جنس پرستی ہی ہے اسی طرح کوئی عورت شناختی کارڈ میں اپنے آپ کو مرد لکھواکر کسی عورت سے شادی قانوناً شادی کرسکتی ہے ۔ اس بل پر روز اول سے مخالفت کرنے والی جماعت جمعیت علماء اسلام کو پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم نے ہدف تنقید بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، حالانکہ اس بل کو چوری چھپے منظور کروانے میں پی ٹی آئی سرفہرست ہے ، اس گناہ میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ بھی برابر کے شریک ہیں ۔گزشتہ رات جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح طور اس بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علماء کی آراء و تجاویز پر مشتمل جامع قسم ترمیم پیش کریں گے ،اور کہا کہ ہم نے اس بل کا اول تھا آخر مکمل مطالعہ کیا ہے اور اس کا متبادل بل بھی تیار کر لیا ہے اس پر جید علمائے کرام کی رائے لینے کے بعد پارلیمنٹ سے پاس کیا جائے گا، اب عام لوگ سوشل میڈیا پر سول کرتے ہیں کہ ٹرانس جینڈر کا اسلام سے کیا مسئلہ ہے؟اسلام میں مرد عورت کے درمیان پردے اور اختلاط کے علاؤہ شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ کے قوانین ہیں۔ سوچیے ایک مرد کل کو عورت بننا پسند کرتا ہے تو وہ عورتوں کا باتھ روم، ان نا سویمنگ پول ان کا جم وغیرہ تو اختیار کرے گا، اس کی شادی کس سے ہوگی؟ اگر وہ خود کو عورت قرار دے کر کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو کیا یہ ہم جنس پرستی نہیں ہے؟ کیونکہ کسی سرجری یا ہارمونل تھیراپی سے اس کی حقیقی جنس تو تبدیل نہیں ہوگی صرف ہئیت میں تبدیلی واقع ہوگی۔ ایک اہم غلط فہمی کو سمجھیے : دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین پیدائشی خواجہ سرا یعنی انٹر سیکس افراد کے تحفظ کے لیے نہیں بنائے گئے۔ وہ تو میڈیکلی اور فزیکلی اس طرح ہیں اور تعداد میں انتہائی کم ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ان کے حوالےسے وہ مسائل نہیں جو ہمارے یہاں ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ٹرانس جینڈر قوانین اختیاری طور پر اپنی صنف تبدیل کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں اور یہ صرف صنفی انتخاب تک محدود نہیں بلکہ جنسی رحجانات تک پھیلتے ہیں ۔ اس لیے ٹرانس جینڈر کے ساتھ ہم جنس پرستی کو مکمل تحفظ عطا کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے منسوخ ہونے اور نیا بل پیش کرنے جبکہ جماعت اسلامی کے سینیئر مشتاق احمد نے ترامیم پیش کرنے پر زور دیا ہے ۔