اسلام آباد(مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہاہے کہ امیر ممالک چوری اور منی لانڈرنگ سے آنے والے پیسے پر بندشیں لگانے کو تیار نہیں، امیر ممالک کو غیر اقوام کے لوٹے گئے وسائل کو اپنے ہاں چھپانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی پر خود کو تیار کرنا ہوگا، عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے باہمی وقار کے احترام کا رویہ اپنانا ہوگا۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ہاورڈ بزنس سکول کے طلبہ و طالبات کے وفد نے خصوصی ملاقات کی جس میں مرکزی سینئر نائب صدر فواد چودھری بھی موجود تھے ۔سیاست، معاشرت، دستور و قانون کی بالادستی اور فلسفہ حیات سمیت اہم امور پر مفصل علمی مباحثہ ہوا ۔ ہاورڈ بزنس سکول کے طلبہ و طالبات کی جانب سے چیئرمین عمران خان کے فلسفہ حیات و سیاست پر جامع سوالات کئے گئے ،چیئرمین عمران خان نے طلبہ و طالبات کے سوالات کے مفصل جوابات دیئے ۔
سابق وزیر اعظم نے کہاکہ میری زندگی نشیب و فراز اور شکست و ریخت سے بھرپور رہی ہے، زمانہ تعلیم اور کھیل سے چیلنجز کا سامنا کرتے آیا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ اوائل عمری میں تعلیم کے ساتھ کھیل کو اوڑھنا بچھونا بنایا، کھیل کے میدانوں نے مقابلے کی صلاحیت میں غیر معمولی نکھار پیدا کیا۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ کھیل کے میدان سے نکلا تو رب العزت کے احسان سے کامیاب کپتانی، عالمی کپ کی فتح اور بیمثال شہرت کے ساتھ نکلا، شخصیت کی ارتقائی منازل میں فکری ارتقاء غیر معمولی رہا۔
عمران خان نے کہاکہ کھیل سے ریٹائر ہوا تو پاکستان مجھے بہت کچھ دے چکا تھا، میرے سامنے دو سوال نہایت اہمیت کے حامل تھے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ اوّل یہ کہ جس وطن، جس سماج نے مجھے عمران خان بنایا اس کے لئے کیا کرسکتا ہوں، انجامِ حیات پر رب کے حضور کیا لیکر پیش ہوں گا۔ عمران خان نے کہاکہ سوچ و فکر میں برپا تبدیلی نے سماجی خدمات کی راہ دکھلائی۔
انہوںنے کہاکہ والدہ کو سرطان سے لڑتے دیکھ کر عزم کیا کہ قوم کی ماؤں کو اس موذی مرض سے بچانے کی تدبیر کروں گا۔ انہوںنے کہاکہ ہسپتال کی تعمیر کے دوران سماج کے ان پہلوؤں کو بھی دیکھنے کا موقع ملا جو کسی قدر نگاہوں سے اوجھل تھے، ہسپتال مکمل ہوا تو یہ حقیقت دریافت کرچکا تھا کہ سیاسی اختیار کے بغیر سماج میں بڑی تبدیلی ناممکن ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ کرپٹ اشرافیہ نے نظام و سماج کو بری طرح جکڑ رکھا تھا، طاقتور لوگ قانون سے بالا، قومی وسائل پر قابض تھے۔
سابق وزیر اعظم نے کہاکہ اسی کرپٹ اشرافیہ کیخلاف سیاسی جدوجہد کی بنیاد تحریک انصاف کی صورت میں ڈالی۔ انہوںنے کہاکہ روزِ اوّل سے سیاست نہیں ایک مقصد کیلئے میدانِ عمل میں ہوں، نصب العین کرپٹ اشرافیہ کے چنگل سے نکلوا کر پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ جب تک سماج میں قانون بالادست نہ ہو قوم اپنی صلاحیتوں کے کمال کو نہیں پہنچ پاتی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اپنی نوعیت کا بڑا چیلنج ہے۔
انہوںنے کہاکہ قانون سے بالاتر کرپٹ طبقہ تیسری دنیا کے وسائل چوری کرکے امیر ملکوں میں منتقل کرتا ہے، تیسری دنیا میں مواقع کی کمی سے امیر ملکوں کی جانب ہجرت کا رجحان تیز تر ہے۔ لانہوںنے کہاکہ امیر ممالک چوری اور منی لانڈرنگ سے آنے والے پیسے پر بندشیں لگانے کو تیار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ امیر ممالک کو غیر اقوام کے لوٹے گئے وسائل کو اپنے ہاں چھپانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی پر خود کو تیار کرنا ہوگا۔ انہوعںنے کہاکہ تحریک انصاف داخلی برائیوں کے تدارک کے ساتھ بین الاقوامی معاملات میں بھی عدل کی علمبردار ہے۔ انہوںنے کہاکہ عالمی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے باہمی وقار کے احترام کا رویہ اپنانا ہوگا۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.