احسن اقبال کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا ریفرنس
اسلام آباد (مسائل نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں احسن اقبال کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا ریفرنس،اسلام آباد ہائی کورٹ سے بریت کے بعد احسن اقبال کا نام ملزمان کی فہرست سے خارج کر دیا گیا۔احتساب عدالت نے احسن اقبال کا نام ملزمان کی فہرست سے نکال دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے احسن اقبال کو بری کردیا تھا ۔
21 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما وفاقی وزیر احسن اقبال کو نارووال اسپورٹس کمپلیکس ریفرنس میں بری کرنے کا حکم دے دیا۔نیب ریفرنس کے مطابق احسن اقبال اور دیگر نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، غیر قانونی طور پر منصوبے کے دائرہ کار کو 3 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار سے 3 ارب روپے تک بڑھا دیا، مزید یہ کہ منصوبے کا ابتدائی خیال 1999 میں احسن اقبال کی ہدایت پر بغیر کسی فزبلٹی اسٹڈی کے پیش کیا گیا تھا۔
ریفرنس کے مطابق 1999 میں جب سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کی سربراہی احسن اقبال کررہے تھے تو 3 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار روپے کی لاگت پر نارووال منصوبے کی ابتدائی منطوری دی گئی تھی، اسی سال ان کی پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) اور نیشنل انجینیئرنگ سروس آف پاکستان کو دی جانے والی غیر قانونی ہدایت پر منصوبے کی لاگت کو 9 کروڑ 75 لاکھ 20 ہزار روپے تک بڑھ گئی تھی۔
احسن اقبال نے خود منصوبے کے لیے زمین کا انتخاب کیا تھا اور مخصوص خصرہ (پلاٹ) نمبرز کو پی ایس بی کے حوالے کیا تاکہ وہ اس کا انتخاب کرے، 1999 میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے وزارت ترقی و منصوبہ بندی کی ہدایت پر اس منصوبے کو اس بنیاد پر ملتوی کردیا تھا کہ اس منصوبے میں معاشی ضرورت کے حوالے سے وہ وزن نہیں تھا۔بعد ازاں 2009 میں یہ منصوبہ دوبارہ شروع کیا گیا تھا اور تب اس کی لاگت 73 کروڑ 20 لاکھ روپے منظور کی گئی تاہم 18 ویں ترمیم کے بعد 2011 میں منصوبے کو حکومت پنجاب کے حوالے کردیا گیا تھا۔
نیب کے مطابق جب احسن اقبال نے 2013 میں وزیر ترقی و منصوبہ بندی کا چارج سنبھالا تو انہوں نے غیرقانونی طور پر اپنی وزارت کے حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ این ایس سی منصوبے کو پی ایس ڈی پی 14-2013 میں شامل کریں، یہ منصوبہ پی ایس ڈی پی 14-2013 کے مسودے میں شامل نہیں تھا کیونکہ یہ ایک منحرف منصوبہ تھا اور حکومت پنجاب کے سالانہ ترقیاتی پروگرام 14-2013 میں بھی اسے ظاہر کیا گیا تھا۔رواں سال اپریل میں نیب ریفرنس کالعدم قرار دینے کی درخواست مسترد ہونے کے فیصلے کے بعد احسن اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔