MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

معاشی بحران کی نئی لہر، تین ماہ میں 4.8 ارب ڈالر واپس کرنے کا چیلنج درپیش، حکومت نے سر پکڑ لیا

0 48

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز)پاکستان ایک بڑے مالی بحران سے دوچار ہے کیونکہ حکومت کو اکتوبر سے دسمبر کے دوران مجموعی طور پر 4.864 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کرنا ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان ادائیگیوں میں سعودی عرب کا 3 ارب ڈالر کا ڈپازٹ بھی شامل ہے جو دسمبر کے پہلے ہفتے میں میچور ہو جائے گا۔

حکومت اس سعودی ڈپازٹ میں توسیع حاصل کرنے کی کوشش کرے گی اور اگر یہ توسیع منظور ہو جاتی ہے تو موجودہ سہ ماہی کے دوران بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ کم ہو کر 1.864 ارب ڈالر رہ جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس سہ ماہی میں مجموعی 4.864 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیوں میں 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹس (زیادہ تر سعودی عرب سے) 78 کروڑ 30 لاکھ ڈالر بیرونی کمرشل قرضوں کی واپسی اور 1 ارب 8 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کثیرالطرفہ اور دوطرفہ قرضوں کی طے شدہ ادائیگیاں شامل ہیں۔

- Advertisement -

3 ارب ڈالر کا سعودی ڈپازٹ اس سہ ماہی کی سب سے بڑی ادائیگی ہے۔ حکومت پاکستان اس ڈپازٹ میں توسیع کے لیے مذاکرات کرے گی تاکہ قلیل مدت میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔

اگر توسیع حاصل کر لی گئی تو اکتوبر تا دسمبر کی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی مجموعی ضرورت 1.864 ارب ڈالر رہ جائے گی، جس سے مالی دباؤ میں واضح کمی آئے گی۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال میں پاکستان کی کل بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داریاں 19.56 ارب ڈالر ہیں۔ ان میں سعودی عرب اور چین کے مجموعی 9 ارب ڈالر کے ڈپازٹس شامل ہیں — جن میں سے 5 ارب سعودی عرب اور 4 ارب چین کو واجب الادا ہیں۔

حکومت ان دونوں ڈپازٹس کی مدت میں توسیع کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ فوری ادائیگی سے بچا جا سکے اور ملکی زرمبادلہ کی پوزیشن مستحکم رکھی جا سکے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.