ریکوڈک پر قانون سازی واپس نہ لی گئی تو وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر سکتے ہیں،بی این پی
کوئٹہ(مسائل نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ریکوڈک پر بلوچستان اور سندھ اسمبلی، سینیٹ میں کی گئی قانون سازی 18ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری کے خلاف ہے، بدنیتی پر منبیٰ قانون سازی کر نے سے بلوچستان میں احساس محرومی بڑھے گا، بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ حقوق دینے، عوام کے دل جیتنے میں پنہا ہے، ریکوڈک پر قانون سازی واپس نہ لی گئی تو وفاقی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر سکتے ہیں۔یہ بات بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل و بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر ملک نصیر احمد شاہوانی۔ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی رکن سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر کوئٹہ غلام نبی مری،بی ایس او کوئٹہ زون کے جنرل سیکرٹری عاطف رودینی بلوچ ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی، ضلعی انفارمیشن سیکریٹری نسیم جاوید ہزارہ سمیت دیگر نے بی این پی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کی جانب سے ریکوڈک معاہدے اور قانون سازی کے خلاف منان چوک کوئٹہ پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین میر اختر حسین لانگو، رکن صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ، ٹائٹس جانسن سمیت دیگر بھی موجود تھے۔مقررین نے کہا کہ ریکوڈک،سیندک، گوادر سمیت دیگر وسائل سے مالا مال بلوچستان آج ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہے 18ویں ترمیم کی شکل میں صوبوں کو خود مختاری دی گئی مگر راتوں رات بلوچستان اور سندھ میں اور اس کے بعد مرکز میں آئین میں ترمیم کر کے بلوچستان کے حقوق پر شب خون مارا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادی ہونے باوجود ہمیں بے خبر رکھا گیا صوبے میں 12دسمبرکے بجائے اسمبلی کا اجلاس 10دسمبر کو بلایا ہمیں اجلاس کی کاروائی سے متعلق بھی آگاہ نہیں کیا گیا تین بجے کے اجلاس میں ساڑھے تین بجے اجلاس کی کاروائی بتائی گئی اس اجلاس میں ایک قرار داد کے تحت صوبے کے ٹیکس سمیت دیگر اختیارات وفاق کو دیا گیا حکومتی ارکان جو عموما اجلاس میں نہیں آتے وقت سے پہلے ہی اجلاس میں موجود تھے جمعیت علماء اسلام اور بی این پی کے ارکان نے قرار داد کی بھر پور مذمت کی تین،چار منٹ میں اجلاس کی کاروائی نمٹا ئی گئی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر ریکوڈک سے متعلق قانون سازی واپس نہیں کریگی تو ہم حکومتی اتحادچھوڑنے سے متعلق سوچیں گے۔مقررین نے کہا کہ جو جماعتیں بلند و بانگ دعویٰ کر رہی ہیں ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ماضی میں انکی حکومت میں تمام معاہدوں پر انکے دستخط ہیں آج وہ احتجاج کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔مقررین نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنی والی گیس ختم ہورہی ہے یہ گیس دور دراز علاقوں میں گئی اس سے لوگ مستفید ہوئے لیکن صوبے کے چند بڑے شہروں کے علاوہ کسی علاقے میں گیس نہیں ہے آج بھی لوگ منفی درجہ حرارت میں عوام گیس سے محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیندک کا معاہد ہ2فیصد پر کیا گیا 25سال سیندک سے سونا چاندی نکالا گیا لیکن اس سے بھی صوبے کو کچھ نہیں ملا،ماضی میں بھی ریکوڈک پر بی این پی کا مطالبہ تھا کہ صوبے کو کم از کم 50فیصد حصہ دیا جائے آج بھی ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ صوبے کو اسکا حق دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش سمیت دیگر مسائل بتدریج بڑھے ہیں یہ کئی دہائیوں کی ذیادتی کا نتیجہ ہیں حکمران اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں بلوچستان کا مسئلہ بندوق نہیں بلکہ عوام کے حقوق دینے،وسائل پر اختیار اور انکے دل جیتنے سے حل ہوگا۔مقررین نے کہا کہ ناانصافیوں کو تقویت دینے سے نوجوان مزید متنفر ہونگے گوادر میں سرمایہ کاری تو ہورہی ہے مگر گوادر کے عوام کو ایک اچھا ہسپتال،سکول، تکنیکی ادارے نہیں ہیں بلوچستان کے لوگ جمہوری جدوجہد کر رہے ہیں انکے ہاتھ مضبوط کئے جائیں،صوبائی خودمختاری کو مزید مستحکم بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے تو یہاں کے عوام کے اختیارات اور وسائل کو چھیننے کا سلسلہ بند کیا جائے۔مقررین نے کہا کہ 18ویں ترمیم بنانے کے بعد بھی اس پر عملدآمد نہیں کیا جاتاہم سے اٹھارویں ترمیم اور نیشنل ایکشن پلان مرتب کر تے وقت مشورہ نہیں کیا گیا لیکن بی این پی روز اول سے آج تک دستور پر عملدآمد کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پر مرکز کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے اس میں پچاس فیصد سے زائد حصہ بلوچستان کو ملنا چاہیے جبکہ 30سے 35فیصد اس کمپنی کو دیا جائے جو اس پر کام کر رہی ہے۔
- Advertisement -