MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

نیب کا تمام سابق صدور اور وزراء اعظم کے کیسز میگا کرپشن کیٹیگری میں شامل کرنے کا فیصلہ

0 404

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) قومی ادارہ احتساب نے تمام سابق صدور اور وزراء اعظم کے کیسز میگا کرپشن کیٹیگری میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات پر قومی ادارہ احتساب نے میگا کرپشن کیسز کی فہرست مرتب کرنا شروع کر دیں، تمام سابق صدر اور وزراءاعظم کے کیسز میگا کرپشن کی کیٹگری میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سابق وفاقی اور ایڈیشنل سیکرٹریز کے کیسز بھی میگا کرپشن میں شامل ہوں گے جبکہ عوام الناس سے فراڈ کیس بھی میگا کرپشن میں شامل کیے جائیں گے۔اس حوالے سے نیب نے اپنے تمام ریجنل بیورو سے میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات مانگ لیں۔ریجنل بیوروز کو ارسال شدہ خط میں ہدایت کی گئی کہ نیب کے قیام سے اکتوبر 2022 تک کے تمام میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات فراہم کی جائے۔
گذشتہ روز سپریم کورٹ نے نیب سے 1999 سے لے کر جون 2022 تک تمام ہائی پروفائل کیسز کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔ عدالت عظمٰی نے ریمارکس دئیے ہیں کہ کتنے کرپشن کیسز ہیں جن میں سپریم کورٹ تک سزائیں برقرار رکھی گئیں اور اب تک نیب قانون کے تحت کتنے ریفرنسز مکمل ہوئے۔نیب قانون میں تبدیلی کے بعد کتنی تحقیقات مکمل ہوئیں،ان سب کا ریکارڈ پیش کیا جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔پی ٹی آئی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ اہم سیاسی رہنماؤں کے کرپشن میں ملوث ہونے کا ہے۔جہاں عوامی پیسے کا تعلق ہو وہ معاملہ بنیادی حقوق کے زمرے میں آتا ہے۔
سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کس آئینی شق کو بنیاد بنا کر نیب قانون کو کالعدم قرار دیں؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ معاشی پالیسز کو دیکھنا سپریم کورٹ کا کام نہیں اور اگر کسی سے کوئی جرم ہوا ہے تو قانون میں شفاف ٹرائل کا طریقہ کار ہے۔ پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا میں معاشی پالیسی کے الفاظ واپس لیتا ہوں۔ سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ نیب ترامیم کے ذریعے کس بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے؟ فرض کریں پارلیمنٹ نے ایک حد مقرر کردی اتنی کرپشن ہو گی تو نیب دیکھے گا۔
سوال یہ ہے کہ عام شہری کے حقوق کیسے متاثر ہوئے ہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایف اے ٹی ایف نے ہمارے قوانین میں نقائص کی نشاندہی کی اور قوانین میں بہتری کے لیے وہ معیار اپنانا ہوگا جو دنیا بھر میں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.