MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اسلام آباد بند کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا

0 312

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد بند کیے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔حکومت نے مطالبات نہ مانے تو تشدد کو کوئی نہیں روک سکتا۔فواد چودھری نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو ایک دوسرے کو سپیس دے کر ملک کو ری سیٹ کرنا ہوگا۔فواد چوہدری نے بیک ڈور بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے نومبر تک الیکشن کی تاریخ مل جائے گی۔
قبل ازیں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ حکمرانوں کا پاؤں عوام کی گردن پر ہے سانس لینا مشکل ہو چکا ہے، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک ٹویٹ میں فواد چوہدری نے کہا کہ عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک عوام کو واپس کیا جائے، امپورٹڈ حکومت کا بستر گول ہو اور ملک نئے انتخابات کی طرف بڑھے،ان حکمرانوں کا پاؤں عوام کی گردن پر ہے اور سانس لینا مشکل ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے غیرمقبول حکومت کیلئے غیر مقبول ہونا اداروں کیلئے مناسب نہیں. فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ تمام قوانین کو روند کر ایک مفرور اسحاق ڈار کو درآمد کرکے وزیر خزانہ لگایا گیا۔ فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر کہا کہ دعویٰ تھا بس اب ڈالر کی ایسی کی تیسی،پھر جعلی طور پر ڈالر نیچے آیا لیکن یہ ڈرامہ صرف چند دن کا رہا اور اب مسلسل روپے کی قدر کم ہو رہی ہے۔
سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت مسلسل تباہی کا شکار ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ لانگ مارچ پاکستان کی سیاست کا تعین کرے گا، لانگ مارچ ہوگا اور فیصلہ کرے گا پاکستان نے کس طرح آگے بڑھنا ہے، اسٹیبلشمنٹ ، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کوتھوڑا سا راستہ نکال کر مل بیٹھ کر بات کریں گے اور بات اسی طرف جانی ہے۔ اصل مسئلہ حکومتی جماعتوں کا ہے ان کو لگتا ہے اگر الیکشن ہوئے تو ہار جائیں گے، لیکن یہ احمقانہ سوچ ہے، کیونکہ حکومت نے عدم اعتماد کے بعد الیکشن نہیں کرایا اس کا نقصان ہوا، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا تب بھی الیکشن نہیں کرایا، اس کا نقصان ہوا۔ اب بتائیں کہ حکومت 10مہینے میں کیا معجزہ کرلے گی کہ تبدیلی آجائے گی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.