MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

یوم انسانیت

0 262

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا

- Advertisement -

انسانیت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے
19اگست کو یوم انسانیت منایا جاتا ہے, یوم انسانیت کو ہمدردی اور انسان دوست سرگرمیاں عمل میں لانے پر زور دیا جاتا ہے, اس دن ان افراد کو خراج تحسین پہنچایا جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے کام کیا, انسان دوست دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو جان بچانے والی امداد فراہم کرتے ہیں۔ وہ شورش زدہ علاقوں, جنگی ماحول, قدرتی آفات سے نبرد آزما افراد کی داد رسی کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں, ایک اندازے کے مطابق تقریبا 700
لوگوں کی داد رسی کرتے ہوئے لقمہ اجل بنے ہیں,انسان دوست مختلف عالمی چیلنجوں جیسے کہ بھوک، جنس پر مبنی تشدد، پناہ گزینوں اور بے گھر افراد، بچوں کے لیے مدد کے ساتھ ساتھ صاف پانی اور صفائی ستھرائی تک رسائی کے لیے مدد فراہم کرتے ہیں۔ 19اگست کو بہت سی این جی اوز, اور خدمت خلق کے ادارے انسان دوست معلوماتی مواد کی تقسیم, عوامی تقریبات کے ذریعے انسانیت کی اہمیت کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس دن کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر 2008 میں قائم کیا تھا, یہ دن پہلی بار 2009 میں منایا گیا تھا۔
قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد میں گزشتہ دہائی کے دوران ہوش ربا اضافہ ہوا ہے, محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 211 ملین افراد قدرتی آفات متاثر ہوتے ہیں۔  غربت، عدم تحفظ، بھوک، صحت کی ناقص صورتحال اور ماحولیاتی تبدیلی نے لوگوں کو بے حد متاثر کیا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ اسلام, انسانیت کا مذہب ہے, ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی پیغمبر اسلام نہیں بلکہ پیغمبر انسان ہیں, بطور مسلمان انسانیت ہمارے لہو میں شامل ہے, اسی لئے پاکستان کی سخاوت، مہمان نوازی اور انسان دوستی مثالی ہے, پاکستان نے 1980 میں افغان وار میں اپنے افغان بھائیوں کے لئے سرحدیں کھول کر پوری دنیا کو جو انسانیت کا پیغام دیا وہ اسلام کے قواعد و ضبوابط کے مطابق تھا, ایک اندازے کے مطابق 1980 کی دہائی سے پاکستان میں 3.5 ملین افغان مہاجرین موجود ہیں، جن میں سے نصف رجسٹرڈ ہیں، اور یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ ان میں سے تقریباً اتنی ہی تعداد غیر رجسٹرڈ رہ رہی ہے۔ اگرچہ ابتدائی سالوں میں، عالمی برداری نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور حکومت پاکستان کو  افغان مہاجرین کے لیے ورلڈ فوڈ پروگرام سے براہ راست خوراک کی امداد دی, تاہم، 1995 میں یہ امداد دینا بند کر دی گئی۔ گزشتہ چار دہائیوں میں حکومت پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کی ہے, مولا علی کا فرمان ہے جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو, پاکستان نے افغانیوں کی داد رسی انہیں اپنا بھائی سمجھ کر کی جس کے بدلے میں افغانیوں نے پاکستان میں دہشتگردی کرنا شروع کر دی, جس سے نجات دلانے کے لئے پاکستان کی مسلح افواج نے جانفشان کوشش کیں اور ملک میں امن کا قیام یقینی بنایا, مادر وطن کے امن کے پیش نظر حکومت اور افواج پاکستان نے  سیکیورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کا فیصلہ کیا, جس کا مقصد عوام کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔ پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے،  مغربی بارڈر مینجمنٹ کے تحت یہ کام کچھ عرصے میں مکمل ہو جائے گا۔ خطے میں امن کے فروغ کے  لئے باڑ لگانے کے عمل پر افغانیوں نے انتہائی نفرت انگیز اور غیر انسانی ردعمل دیا اور پاک فوج کے جوانوں کو شہید کیا تاہم پاکستان امن کا پیامبر بنکر اپنا فرض ادا کرتا رہا, کر رہا ہے اور الله کے فضل سے آگے بھی کرتا رہے گا
پاک فوج نے مغربی سرحد پر سیکیورٹی کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں کلیدی کردار ادا کیا کیونکہ پاکستان محمد عربی کا پیروکار ہے, جو رہبر انسانیت تھے.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.