ملک خالد محمود اعوان بطور میر ٹ پسند ودبنگ پولیس آفیسر
خصوصی تحریر : راجہ نورالہی عاطف
انسان کے اندر برائی اور اچھائی بدی بننے کی خیر مشعل علم کے میلانات ازل سے ودیعت کر دیئے گئے ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان تضاد تصادم اور ٹکراؤ کی کیفیت قائم رہے اور جب تک یہ قسم کا شکار ہے انسان کی زندگی عجیب قسم کے تضادات اور بگاڑ کا شکار رہتی ہے ۔ اسی بار سے بے راہ روی ظلم و استحصال فسق و فجور جنم لیتے ہیں ۔ بھائی اور اچھائی کو تو میں روز ازل سے ہی مقابلہ جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا ۔ وطن عزیز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اندرون ملک و عالمی سطح پر ہمیشہ مثالی اور قابل رشک رہا ہے۔ انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پولیس ڈیپارٹمنٹ کا کردار زبردست خراج تحسین کے لائق ہے ۔ اللہ تعالی کے خصوصی فضل و کرم سے ہماری پولیس کے آفیسرز اور دیگر ملازمین نے بے شک قانون کی عملداری کے لیے بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ یقینا یہ پولیس آفیسرز اور اہلکاران بہترین بندہ سے قومی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ۔ انہیں فرض شناس اور دبنگ پولیس آفیسر ز میں ایک نام جناب ملک خالد محمود اعوان کا بھی ہے ۔ موصوف ایک عرصہ سے خوشاب میانوالی بکھر فیصل آباد سرگودھا سمیت دیگر علاقوں کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں ۔ جناب ملک خالد محمود اعوان صاحب ان دنوں بطور ایس ایچ او تھانہ نورپورتھل تعینات ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی ا نے جناب ملک خالد محمود اعوان کو اعلی ا انتظامی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ معاملہ فہمی، صلح جوئ ، میرٹ پسندی ،ملنساری اور خوش اخلاقی جیسے اوصاف حمیدہ سے بھی متصف کیا ہے ۔ آپ کا شمار دبنگ پولیس آفیسرز میں ہوتا ہے ۔ آپ نے ہمیشہ مختلف پولیس اسٹیشنز میں تعیناتی کے دوران کرائمز کی بیخ کنی کے لئے مثالی کردار ادا کیا ہے ۔ جس پر آپ زبردست خراج تحسین کے لائق ہیں ۔ آپ نے تھانہ نورپورتھل کا بطور ایس ایچ او چارج سنبھالتے ہی معاشرتی اصلاح اور فلاح کے لیے عزم صمیم کر رکھا ہے اور اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ جس پرعوامی سماجی اور صحافتی حلقوں کی طرف سے ان کی ان مخلصانہ کوششوں کو زبردست سراہا جا رہا ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ ایک خصوصی نشست کے دوران ان کا کہنا تھا کہ تھانے میں ہر کام میرٹ پر ہوگا ،مظلوم کی داد رسی کی جائے گی اور ظالم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا،
- Advertisement -

منشیات فروشوں اور جواءبازوں کےخلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی جبکہ سٹریٹ کرائمز کا خاتمہ اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ ملک خالد محمود اعوان کا کہنا تھا کہ ہمارے پیارے مذہب اسلام نے سود کے خلاف جو حکم دیا ہے بحیثیت مسلم ہمیں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اس حوالے سے قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے گی ۔ ایس ایچ او تھانہ نورپورتھل کا کہنا تھا کہ لوگوں کے مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے مسائل کے حل کے لیے مصالحتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔ انشاءاللہ تھانے کی سطح پر شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ سماج دشمن عناصر کے خلاف جنگ جاری رہے گی ۔اس حوالے سے عوام کو پولیس کے ساتھ بھرپور تعاون کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھانے میں آنے والے سائلین کی داد رسی کے لئے تمام سٹاف کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ انشاءاللہ معاشرتی برائیوں میں ملوث ملزمان پولیس کے شکنجے سے نہیں بچ سکتے ۔ انہوں نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ معاشرتی اصلاح اور فلاح کے لیے اپنا اہم کردار ادا کرے۔ پولیس ان کے اور شہریوں کے تعاو سے سماجی بہبود کے لئے اہم کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جناب ڈی پی او صاحب خوشاب اور جناب ایس ڈی پی او صاحب تحصیل نورپورتھل کی زیرنگرانی سائلان کی دادرسی کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا ۔ ملک خالد محمود اعوان نے کہا کہ عوام کو پولیس کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ پولیس کا امیج مزید بہتر ہو اور عوام کی اطلاعات پر بھی جرائم کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فورس قابل فخر ہے ۔ ملک و قوم کے لیے پنجاب پولیس کے جوانوں کی قربانیوں کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ جناب ملک خالد محمود اعوان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہمیشہ سچ کو اپنائیں سچ ہی ہمارا شیوہ ہونا چاہیے ۔ جس معاشرے سے سچ اٹھ جاتا ہے وہاں طرح طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قانون، جھوٹی شہادتو ں، جھوٹی عرضیوں، جھوٹے اشٹام پیپرز اورجھوٹے بیان حلفیوں کی حوصلہ شکنی کرے گا ۔انشاءاللہ سچ بولنے والے کو میرٹ پر انصاف فراہم کیا جائے گا۔ جب تک ہر واقعہ میں جھوٹ کی ملمع کاری ہوتی رہے گی۔ جب تک سچائی کو مصلحت یا خوف کی وجہ سے دبایا جاتا رہے گا۔ جب تک حقیقتوں پر پردہ ڈال کر وقت گزاری کی پالیسی اختیار کی جائے گی اور جب تک جھوٹ اور سچ مغلوب رہے گا۔ امن اور انصاف کی خواہش ایک سراب کے سوا کچھ نہیں ۔ ایسے میں ان دونوں کی تلاش ایسے ہی ہے جیسے اندھیرے بیچ کر روشنی کی فصل کا خواب دیکھنا ۔