احتجاج و ریلی عوام کا آئینی و قانونی حق ہے، بی این پی قائدین و دیگر پر مقدمہ درج کرنا کوئی جواز نہیں رکھتا، غضنفر کھیتران
کوئٹہ( ویب ڈیسک) بلوچستان نیشنل پارٹی کے ممبر غضنفر محمد کھیتران نے اپنے مزمتی بیان میں کہا ہے کہ پچھلے سال 8 جون 2021 کو لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے نکالی گئی ریلی پر بی این پی قائدین سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی، بی این پی کے لیبر سیکرٹری موسی بلوچ، بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر غلام نبی مری، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بالاچ قادر، مسنگ پرسن کے چئیرمین نصر اللہ بلوچ،
- Advertisement -
ضلعی وائس چیئرمین ماما قدیر احمد بلوچ و دیگر کے خلاف سول لائن پولیس تھانے میں مقدمہ درج کرکے انہیں اشتہاری قرار دینا غیر اخلاقی عمل ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے پاکستان کا آئین و قانون کسی بھی شخص کو مکمل اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے آواز بلند کرے اور احتجاج یا ریلی نکالے۔ اس طرح کے اتکنڈے استعمال کرنے سے ہمارے حوصلے پست نہیں بلکہ مظبوط ہونگے مقدمہ میں کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر آٹھ دفعات لگائی گئی ہیں زرائے کے مطابق آٹھ جون 2021ء کونکالی گئی ریلی کے شرکاء نے کوئٹہ پریس کلب سے جی پی او چوک تک مارچ کیا
اور ٹی این ٹی چوک پر دھرنا دے کر شاہراہ کو بند کرکے عوام الناس کی آمدورفت میں خلل ڈالتے ہوئے کرونا کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کرکے ٹی این ٹی چوک پر دھرنا دیکر بیٹھے اور کار سرکار میں مداخلت، کوویڈ 19 کی ایس او پیز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 278، 270، 269، 341، 353، 149، 147، 186 کی دفعات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے جو سراسر زلم، زیادت و ناانصافی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کرینگے انہوں نے کہا کہ بی این پی قائدین و دیگر کے خلاف مقدمہ کا اندراج انتقامی کارروائی اور انہیں سیاسی عمل سے دور رکھنے کی ناکام سازش ہے جسے مکمل طور پر ناکام بنائینگے اور سیاسی طریقے سے اس کا مقابلہ بھی کرینگے