جماعت اسلامی زندہ یا مردہ ۔۔۔۔۔
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
حالیہ دنوں میں ھونے والے بلدیاتی انتخابات میں سندھ شہری عوام نے جماعت اسلامی کے حق میں بیشمار ووٹ ڈالے تاکہ وہ جیت سکے لیکن نتیجہ تبدیل کرنے کیلئے ایک جانب حکومت سندھ کا دباؤ مسلسل آر اوز کمشنر و ڈپٹی کمشنرز گویا ہر صوبائی مشینری متحرک رھی اور ہر وہ حربہ استعمال کیا گیا جس میں موجودہ حکومت سندھ کی سیاسی جماعت کو حاصل رھے اور اب یہی منافق جھوٹے لٹیرے دھوکہ باز اپنی عیاری و مکاری سے باز نہیں آرھے یہ سمجھتے ھیں کہ ان کی مکاریاں سیاست ھے جبکہ یہ اعمال انتہائی ناپسندیدہ سمجھے جاتے۔ میں اپنے ناظرین کو یاد دلاتا چلوں کہ ان کے بانی نے بھی اسی رویہ سے اقتدار کا منصب لیا تھا وہ اور انکے بعد آنی والی نسلوں اور اب دامادی سیاست نے کبھی بھی شفافیت حق و سچ ایمانداری و دیانتداری سے انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کی۔ ایک ایسا بھی وقت آیا تھا جب شہری آبادی نے ریکارڈ توڑ ایم کیو ایم کو ووٹ دیکر کامیاب کیا اس میں بھی انھوں نے ہیرا پھیری کی خیر اب ایم کیو ایم اپنی منفی سیاست کے سبب ہمیشہ کیلئے مہاجروں کے دلوں سے نکل چکی ھے مہاجر قوم شعور و سمجھ میں بہت آگے ھیں اسی لیئے انھوں نے اب ایم کیو ایم کو فراموش کردیا ھے آج اگر ان مہاجروں کا بینک بیلینس اور املاک کا تخمینہ لگایا جائے تو اربوں کھربوں بنے گا یہ بہروپئے ھیں اب ان سب کے روپ عیاں ھوچکے ھیں یہ سب بے شرم و بے حیا بھی ھے جنہیں اپنی قوم کو مزید برباد کرنے کا خیال تک نہیں آتا یہ اپمے نفس کے غلام ھیں۔ پی پی پی اگر دیانت و ایمانداری سے انتخابات میں حصہ لے تو شائد ان کے گھروں کے ووٹ صرف مل سکیں یہ عوام میں انتہائی غیر مقبول تھی اور ھے یہی حال چور بازاری کا پاکستان مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کا بھی رھا ھے۔ اب انتہائی نازک مرحلے میں جماعت داخل ھوچکی ھے اسے چاہئے کہ اپنا حق حاصل کرنے کیلئے عدالت اور عوام کے درمیان پہنچے تاکہ بلدیاتی انتخابات 2023 میں ہوشربا پی پی پی اور سندھ حکومت کی جانب سے پیدا کردہ جعل سازیاں جعلی ووٹ اور نتائج میں تبدیلی پر سخت سے سخت رد عمل لایا جائے کیونکہ ابھی ایسا نہ کیا تو عام انتخابات میں سندھ بھر میں پی پی پی اور سندھ حکومت دھاندلی کے پہاڑ کھڑے کردیں گے رہی بات الیکشن کمیشن آف پاکستان وہ انتہائی ناکارہ بے وقعت بے توقیر ھوگیا ھے گویا جو چاھے اسپر بآسانی اپنا دباؤ ڈال کر اپنی بات منوالے۔ اب دیکھنا یہ ھے کہ بلدیاتی نتائج اور عہدوں پر جماعت اسلامی کیا اقدام اٹھاتی ھے ان کا ایک بھی غلط قدم انکی منافقت اور جھوٹ کا سبب بن سکتا ھے انہیں اس وقت بہت احتیاط کیساتھ سیاسی بصیرت کو اپناتے ھوئے دینی راہ کو پکڑتے ھوئے فیصلہ کرنا ھوگا۔ جماعت اسلامی کیلئے مشورہ یہی ھے کہ وہ مسلک کی تقسیم سے نکل کر دین اسلام کی سربلندی کیلئے عام انتخابات میں ایک بڑا پینل بنائیں جس میں صرف دینی سیاسی جماعتیں ھوں کیونکہ اب عوام جمہوریت سے بہت تنگ آچکی ھیں اس قوم کو اس وطن کو اسلامی نظام چاہئے۔ تنظیم اسلامی، تحریک لبیک، جمعیت علماء اسلام، جمیعت علما پاکستان اور جماعت اسلامی یہ سب کے سب سیاسی پارٹیاں یکجا ھوکر عام انتخابات میں حصہ لیں اور دین سے دور جمہوریت پسندوں کے غلام اعلان سیاسی جنگ کریں اور ایک اسلامی جھنڈے کے تلے یہ سب دینی سیاسی جماعتیں عام انتخابات میں مقابلہ کریں بیشک اسلامی نظام کیلئے اللہ ﷻ و رسول اللہ ﷺ کی نصرت شامل حال رھے گی انشاءاللہ لیکن اس سے قبل جماعت اسلامی کو اب انتخابات میں کامیابی کے بعد فیصلہ درست رکھنا ھے یہی اس کو زندہ رکھ سکتا ھے اور یہی فیصلہ اس کیلئے ہمیشہ کی سیاسی موت بھی بن سکتا ھے اب فیصلہ جماعت اسلامی پر ھے ۔۔۔۔۔۔ !!