بلدیاتی انتخابات اور پھر عام انتخابات 2023
تحریر: جاوید صدیقی
- Advertisement -
سپریم کورٹ کے بار بار اور سخت احکامات کے بعد بلآخر ملک کے کئی صوبوں نے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا ان میں صوبہ سندھ بھی رھا مانا کہ کورٹ کے احکامات کی تعمیل کی گئی مگر حیرت و تعجب اس بات پر ھے کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی نے پہلے سے کہیں زیادہ مایوس کیا۔ پولنگ اسٹیشنوں میں اکثر و بیشر ایسے پریزائیڈنگ آفیسر اور دیگر اسٹاف تعینات کیا گیا جنھوں نے نہ تو کبھی یہ ذمہداری ادا کی اور نہ ہی کسی بھی قسم کی ٹریننگ۔ خاص طور پر مشاہدہ اور تجربہ کیا تو اکثر ایسے یوسی تھے جن میں گھر کے بچے بچیاں ڈیوٹی دے رھے تھے گویا الیکشن کمیشن نے یہ عدالتی احکام جبراً سر سے اتار پھینکا ھو۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان اور حق تلفی ووٹرز کیساتھ ھوئی کیونکہ نااہل ناکارہ پائلٹ کے حوالہ جمبو جیٹ کردیا گیا ھو جسے نہ ٹیک آف کرنا آتا ھو اور نہ ہی لینڈنگ تو آپ خود بھی اندازہ لگاسکتے ھیں کہ نتائج کس قدر شفاف ھوسکتے ھیں۔ ان حالات میں بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف کئی ایک سیاسی پارٹیوں نے ہاتھ صاف کیئے گوکہ اس سے قبل اس قدر بدنظمی بے انصافی نہ دیکھی گئی۔ مجھے بحثیت ایک صحافی کالمار اور محقق خدشہ ھے اور فکر بھی لاحق ھے کہ اگر الیکشن کمیشن نے عام انتخابات میں بھی عجلت کی بناء پر نظم و ضبط اور ماہرانہ اسٹاف کی تعیناتی عمل میں نہ لائی گئی تو جہاں ایک جانب امن و امان کا مسلہ درپیش ھوسکتا ھے وہیں خون خرابہ کا اندیشہ بھی ھے۔ ان سب سے زیادہ ایک ووٹر کا ووٹ ضائع ھونا اور اس کی حق تلفی ھونا نہ صرف ملک کیساتھ بلکہ اپنے دین کیساتھ بھی غداری اور بے وفائی ھے۔ میرا مشورہ اور تجویز ھے کہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کیلئے ھر چھوٹے بڑے پولنگ اسٹیشن پر اندر اور باہر پولیس کیساتھ رینجرز لازمی تعینات کریں اور گشت پر افواج پاکستان کی خدمات لازمی لی جائیں۔ یاد رھے کہ کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر ماحول اور حالات کی خرابی امیدواروں کی جانب سے کی جاتی رہی ھیں اور امکان ھے کہ جبراً ان بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے جو منفی عمل اختیار کیئے گئے عام انتخابات میں شدت کیساتھ کرسکتے ھیں۔ الیکشن کمیشن ایک لیٹر جاری کرے جس میں پولنگ اسٹیشن پر بے امنی شرانگیزی اور مداخلت کرنے والے امیدواروں کے ایجنٹ پر اس امیدوار کو نااہل اور بلیک لسٹ کردیا جائے جب تک سخت عملی اقدامات نہ کئے گئے تو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے انتخابات ایک مزاق بن کر رہ جائیں گے۔ سیاسی جماعت ایک جانب جمہوریت کا آلاپ گاتے تھکتے نہیں تو دوسری جانب یہی سیاسی جماعتیں اپنی جیت کیلئے ہر منفی حربے استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے گویا شرم و حیا، عزت و شرافت سب کچھ بیچ کھا کر میدان میں اترتے ھیں۔ پاکستان کی سلامتی و بقاء امن و امان خوشحالی و ترقی کیلئے لازماً ھے کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سخت اقدامات لیتے ھوئے گھبرائیں نہیں اور فور اسٹارز جنرلز ملک و قوم کیساتھ ہم آہنگی پیدا کرتے ھوئے اس قومی فریضہ کو اس قدر شفاف و بہتر بنائیں کہ ایک جانب میڈیا تعریف کیئے بغیر نہ رھے تو دوسری جانب عالم دنیا احسن اقدام کو اعتراف کرنے پر مجبور ھوجائے تاکہ جب حکومت تشکیل دیجائے تو ہر ایک خود آکر پاکستان سے ہر معاملہ میں تعاون سمیت شراکت کرسکے اس کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات شفاف بہتر اور منصفانہ بنانے ھونگے۔۔۔۔۔۔۔ !!