MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

برطانیہ کا جدید دور کی سب سے بڑی پناہ گزین پالیسی اصلاحات کا اعلان

0 100

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لندن (مسائل نیوز )برطانیہ نے جدید دور کی سب سے بڑی پناہ گزین پالیسی اصلاحات کا اعلان کردیا،برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے افراد کو مستقل طور پر آباد ہونے کیلئے درخواست دینے سے پہلے 20 سال انتظار کرنا پڑے گا۔ اس پالیسی کا باضابطہ اعلان آ ج (پیر )کو ہوم سیکرٹری شبانہ محمود کی جانب سے کیا جائے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کی پالیسی میں بڑی تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سرحدیں عبور کر کے آنے والوں اور پناہ کی درخواستوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ان منصوبوں کے تحت جن لوگوں کو پناہ دی گئی ہے انھیں صرف عارضی طور پر ملک میں رہنے کی اجازت دی جائے گی، ان کی پناہ گزینوں کی حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا اور جن کے آبائی ممالک کو محفوظ سمجھا جاتا ہے انھیں واپس جانے کے لئے کہا جائے گا۔فی الوقت لوگوں کو پناہ گزین کی حیثیت پانچ سال تک ملتی ہے جس کے بعد وہ غیر معینہ مدت تک رہائش کیلئے درخواست دے سکتے ہیں۔تاہم اب ہوم سیکرٹری ابتدائی مدت کو پانچ سال سے کم کر کے ڈھائی سال کرنا چاہتی ہیں جس کے بعد پناہ گزینوں کی حیثیت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔لیکن وہ برطانیہ میں مستقل رہائش حاصل کرنے میں لگنے والے وقت کو پانچ سال سے بڑھا کر 20 سال کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔شبانہ محمود نے سنڈے ٹائمز کو بتایا کہ یہ اصلاحات بنیادی طور پر لوگوں سے یہ کہنے کے لیے بنائی گئی ہیں کہ غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر اس ملک میں نہ آئیں، کشتی پر سوار نہ ہوں۔انھوں نے مزید کہا کہ غیر قانونی ترکِ وطن ہمارے ملک کو توڑ رہا ہے۔ ہمارے ملک کو متحد کرنا حکومت کا کام ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر ہم اس کو حل نہیں کرتے ہیں تو ، مجھے لگتا ہے کہ ہمارا ملک بہت زیادہ منقسم ہوجائے گا۔اس پالیسی کو ڈنمارک سے نقل کیا گیا ہے جہاں پناہ گزینوں کو عارضی رہائشی اجازت نامہ دیا جاتا ہے جو عام طور پر دو سال کے لیے ہوتا ہے اور ان کی میعاد ختم ہونے پر انھیں دوبارہ پناہ کے لیے درخواست دینی پڑتی ہے۔شبانہ محمود کے اس نئے نقطہ نظر کو یقینی طور پر کچھ لیبر ممبران پارلیمنٹ کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانیہ کی لیبر حکومت نے ملک کی پناہ گزین اور مہاجرین سے متعلق پالیسی میں تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ڈنمارک سمیت یورپ کے کئی ممالک کے سخت ماڈلز سے متاثر ہیں، جن میں عارضی رہائش، مشروط امداد اور لازمی انضمام جیسے اصول شامل ہیں ۔وزارتِ داخلہ کے مطابق نئی پالیسی کے تحت ایسے تمام پناہ گزین جن کے پاس کام کرنے کی صلاحیت ہے لیکن وہ کام نہیں کرتے، یا جو قانون شکنی کے مرتکب ہوں، انہیں رہائش اور مالی امداد کی سرکاری ضمانت سے محروم کردیا جائے گا۔ دوسری جانب پناہ گزینوں کی کونسل کے چیف ایگزیکٹیو انور سلیمان نے حکومت کے منصوبوں کو سخت اور غیر ضروری قرار دیا اور کہا کہ وہ ان لوگوں کو نہیں روک سکیں گے جو ظلم و ستم کا شکار ہیں، یا انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا یا ان کے اہل خانہ وحشیانہ جنگوں میں مارے گئے۔ادھر سو سے زائد برطانوی فلاحی اداروں نے مشترکہ خط میں حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پالیسی میں سختی مہاجرین کو قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے اور اس سے معاشرے میں نسل پرستی اور تشدد میں اضافہ ہوگا۔مالی سال مارچ 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں پناہ گزین درخواستوں کی تعداد 17 فیصد اضافے کے ساتھ 109,343 تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہیں اور 2002 کے ریکارڈ 103,081 سے بھی تقریبا 6 فیصد زائد ہے۔وزارتِ داخلہ کے مطابق اصلاحات کا ڈھانچہ نہ صرف ڈنمارک بلکہ یورپ کے دیگر ممالک کی سخت پالیسیوں سے متاثر ہے، جہاں پناہ کا درجہ عارضی ہوتا ہے، مالی امداد شرائط سے مشروط ہوتی ہے، اور پناہ گزینوں سے مقامی سماج میں شمولیت کی توقع کی جاتی ہے۔ڈنمارک میں رہائش عام طور پر دو سال کیلئے دی جاتی ہے اور حالات بہتر ہونے پر مہاجرین کو واپس بھیجا جا سکتا ہے۔ خاندان کے ملاپ اور شہریت کے قوانین کو بھی مزید سخت کیا گیا ہے۔ حتی کہ 2016 کے قانون کے تحت قیمتی اشیا ضبط کرنے کی اجازت بھی موجود ہے۔برطانیہ میں اس وقت پناہ ملنے کی صورت میں پانچ سالہ رہائشی حق دیا جاتا ہے، جس کے بعد مستقل رہائش کیلئے درخواست دی جا سکتی ہے۔انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ ڈنمارک جیسے…

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.