وزیراعظم کا صوبوں کو گندم کی خریداری کے لیے ہدف پورا نہ ہونے پر اظہارِبرہمی
اسلام آباد(مسائل نیوز) وزیراعظم شہباز کی زیر صدارت گندم کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا۔وزیراعظم نے صوبوں کو گندم کی خریداری کے لیے ہدف پورا نہ ہونے پر اظہارِبرہمی کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عوام کو کسی صورت مشکل میں نہیں ڈالا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر صورت کم قیمت پر آٹا فراہم کرے گی۔کسی قسم کی کمی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
وفاقی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ صوبے یکم جون تک گندم خریداری کے اہداف پورے کریں۔جبکہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ2018 میں جب ہم نے حکومت چھوڑی تو ہم گندم اور چینی برآمد کر رہے تھے، آپ چینی اور گندم درآمد پر چھوڑ کر گئے۔ اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے 2018 میں جب حکومت چھوڑی تو ہم گندم اور چینی برآمد کر رہے تھے اور اب جب تحریک انصاف نے حکومت چھوڑی تو ہم گندم اور چینی درآمد کر رہے ہیں۔
- Advertisement -
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ چینی اور گندم ہی درآمد کرتا نہیں چھوڑ کر گئے بلکہ کپاس کی پیداوار 1983/84 کے بعد سب سے کم ترین سطح پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 71 سالوں میں لئے گئے تمام قرضوں کا 80 فیصد تحریک انصاف کے دور میں لئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ درآمدات ہیں لیکن اللہ کی شان کہ آپ (اسد عمر) معیشت کی بات کر رہے ہیں۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے راہنماﺅں سے آج ملاقاتیں کریں گے جن میں نوازشریف کی زیرصدارت لندن میں ہونے والے مسلم لیگ نون کے اجلاس کے فیصلوں پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے علاوہ فوری انتخابات اور نگراں حکومت کے معاملے پر مشاورت کریں گے اور حکومتی مستقبل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔موسم کی خرابی کی وجہ سے ان کا طیارہ اسلام آباد میں لینڈ نہیں کر سکا۔وزیراعظم آج صبح اتحادی جماعتوں کے قائدین کا مشاورتی اجلاس طلب کر لیا۔ شہباز شریف حکومتی مستقبل سے متعلق آپشنر اتحادی جماعتوں کے قائدین کے سامنے رکھیں۔تمام اتحادی جماعتوں کی منظوری کے بعد ہی حکومت حتمی فیصلہ کرے گی۔