پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ،پرویز الٰہی نے آئی جی پنجاب کو ایک ماہ کی سزا دینے کا اعلان کردیا،آئی جی پنجاب ہنگامہ آرائی کے ذمہ دار قرار
لاہور (مسائل نیوز) پنجاب اسمبلی میں آج انتہائی افسوسناک مناظر دیکھنے کو ملے۔حکومتی ارکان کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر تشدد کیا گیا، ان کے بال نوچے گئے۔سیکیورٹی اہلکار بمشکل دوست مزاری کو ایوان سے باہر لے جانے میں کامیاب ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب کے امیدوار پرویز الہیٰ نے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہونے والے اجلاس میں ہنگامہ آرائی اور اسپیکر پر حملے کا ذمہ دار آئی جی پنجاب کو قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا، پولیس کیسے ایوان کے اندر داخل ہوئی ہے۔پرویز الہیٰ نے کہا کہ اس واقعے کے ذمہ دار آئی جی پنجاب ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی جی پنجاب کو ایوان میں بلا کر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور آئی جی کو ایک ماہ کی سزا دی جائے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملہ کیا گیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
- Advertisement -
میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی نشست کا گھیراؤ کر لیا۔دوست مزاری کو دھکے دئیے گئے اور لوٹے مارے گئے۔حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر پر لوٹے اچھالے۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدنظمی کا شکار ہو گیا۔صورتحال بگڑنے پر سیکیورٹی طلب کر لی گئی جب کہ سیکیورٹی اہلکار ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو اسمبلی سے باہر لے گئے۔
۔ خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کے 16اپریل کو ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری کر دیا گیا ۔ایجنڈے کے مطابق اجلاس میںآئین کے آرٹیکل 130کے تحت قائد ایوان کا انتخاب ہو گا۔ پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے ( ہفتہ) کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں ہونے والی ووٹنگ کے موقع پر محکمہ داخلہ نے فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ قائد ایوان کے چناؤ کے پیش نظر رینجرز کو طلب کرلیا گیا ، پولیس کے ہمراہ رینجرز کے جوان بھی ڈیوٹی دیں گے ۔پنجاب اسمبلی کے اردگرد500میٹر تک دفعہ 144لگادی گئی ۔سیاسی ورکرز اسمبلی کے 500میٹر کی حدود میں اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔اسمبلی کے اطراف 4 سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہوگی۔