اسلام آباد (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو چیئر مین ایف بی آر ڈاکٹر محمد اشفاق احمد نے بتایا ہے کہ ہم کسٹمز ایکٹ میں ترامیم کیلئے جائیں گے ،کارپوریٹ گارنٹی پر بعد میں عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا جاتا ہے ، اس سے بہت زیادہ ٹیکس پھنس جاتا تھا ،معاملے کے حل کیلئے آئندہ بجٹ کیلئے تجویز تیار کریں گے ،
- Advertisement -
مقدمہ بازی کی وجہ سے 3.2 کھرب روپے کا ٹیکس پھنسا ہوا ہے ،ٹیکس کا نیا کوڈ تیار کر رہے ہیں ، اس سے ٹیکس نظام کو سہل بنایا جائے گا ۔فیض اللہ کاموکہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں تمام سرکاری کمپنیوں کو یکجا انتظامی کنٹرول میں دینے کے حکومتی بل پر غور کیا گیا ،
حکام وزار ت خزانہ نے بتایاکہ بل میں مانیٹرنگ بورڈ میں ممبر قومی اسمبلی اور ممبر سینٹر کی شمولیت کی شق شامل کر لی گئی ، بورڈ ممبر کیلئے عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 25 سال کر دی گئی ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ کم از کم 35 سال عمر کے فرد کو ممبر بنانے کی شرط رکھی جائے ۔ سید نوید قمر نے کہاکہ قانون کے تحت 25 سال والا فرد ممبر قومی اسمبلی بن سکتا ہے ۔ احسن اقبال نے کہاکہ بورڈ ممبر کا کم از کم 10 سال کا مینجمنٹ تجربہ ہونا چاہیے ۔