کراچی (مسائل نیوز) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سنیئر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اسمبلی تحلیل کرنے والوں کو عوام کو جواب دینا پڑے گا،ملک کے حالات بہتر کرنے کیلئے بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی ناقص پالیسیوں سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوا،4 سال کی غفلت اور تباہی 9 ماہ میں ختم نہیں ہو سکتی،جہاں کابینہ کے فیصلے کو غلط کہا جائے وہ ملک کیسے چلے گا؟ ایک دن میں معجزہ نہیں ہو گا جبکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا۔
انکا کہنا تھا کہ میں 9 مہینے کا جواب دوں گا،پہلے پچھلے4 سال کا جواب دیں،ہر حکومت کو ہر وقت اعتماد کے ووٹ کیلئے تیار رہنا ہوتا ہے۔نیب نے میرے خلاف سیاسی دباؤ میں ریفرنس دائر کیا اور نیب خود ریفرنس واپس لے۔
نیب خود کہہ رہا ہے کہ کرپشن کا چارج نہیں،نیب کو ختم کیا جائے ورنہ افسران فیصلہ نہیں کر سکیں گے،افسران فیصلہ نہیں کریں گے تو ملک میں مہنگائی آئے گی۔
- Advertisement -
دوسری جانب وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ پاکستان کی چیچک زدہ جمہوریت سے ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔اسکی وجہ خاندانی سیاست،اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت اور نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے ہیں۔ پاکستان کا جو نظام ہے وہ آپکو میرٹ پر کام نہیں کرنے دیتا،یہ اقرباء پروری کی طرف لے کر جاتا ہے،جب آپ میرٹ پر کام کرتے ہیں تو بیرونی و اندرونی دباؤ آتا ہے اور نظام کے اندر ان سے لڑنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 1997 میں حکومت میں آئے،ڈھائی برس کام کیا اور پھر مارشل لاء آ گیا،2008 میں واپس آئے شہباز شریف نے دوبارہ انفرا اسٹرکچرتعمیرکیا،کالجز،اسکولز اور یونیورسیٹیز بنائیں،لوگوں کو ہسپتالوں میں مفت ادویات ملتی تھیں،لاہور میں صفائی کے نظام کو بہتر کیا گیا اور اسے پھولوں کا شہر بنایا گیا۔