MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

تبلیغی جماعت اور سعودی حکمران ،محمّد شہزاد بھٹی

1 576

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 کالم نگار،محمّد شہزاد بھٹی
تبلیغی جماعت دنیا میں اسلام کی دعوت و تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے والی منظم عالمی جماعت ہے جو 1926ء میں مولانا محمد الیاس دہلوی ؒکی کوششوں سے وجود میں آئی۔ مولانا محمد الیاس دہلوی کاندھلہ کے مشہور دینی، مذہبی اور علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، آپ فقیہ الہند حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒکے مرید اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن عثمانی دیوبندیؒ کے شاگرد رشید تھے۔ مولانا محمد الیاس دہلویؒ نے جب تبلیغی کام شروع کرنے کا ارادہ کیا تو مدینہ منورہ جا کر ایک ہفتہ خاص روضہ اقدسﷺ کے پاس اعتکاف کیا واپسی پر ہندوستان آ کر دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیا۔

پہلے اس وقت کے علماء کرام کے سامنے اس کام کا تمام نقشہ پیش کیا، مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور ان کے علاوہ تمام علماء کرام نے اس کی توثیق و تائید کی اور یہ تمام علماء کرام عملاً تبلیغی کام میں شریک ہوئے، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اپنی مصروفیات کی وجہ سے جماعت کو وقت تو نہیں دے سکے مگر علی الاعلان تائید و حمایت کرتے رہے۔

شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی اجتماعات اور جماعتوں کو ہدایات دینے خود تشریف لے جا کر ترغیب اور ہدایات ارشاد فرماتے رہے جبکہ مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ بذات خود اجتماعات کے علاوہ تین دن کے لئے بھی تشریف لے جاتے تھے۔ امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی ؒ اور امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ کی زندگی کے آخری ایام میں مرکز نظام الدین مولانا کے پاس تشریف لے جا کر تبلیغی کام میں اپناحصہ ڈال کر اس کام کی تائید کرتے رہے، مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندویؒ تبلیغی جماعت کے پکے ارکان میں سے تھے۔ پشاور میں تبلیغی کام کی ابتداء مولانا ندوی کے ہاتھوں ہوئی، سعودی عرب میں بھی آپ نے تبلیغ کا کام شروع کیا 1947ء کا پورا سال آپ نے تبلیغی جماعت کے ساتھ سعودی عرب میں لگایا اور وہاں کے حکمرانوں اور علماء کرام کے ساتھ ملاقاتیں کر کے انہیں تبلیغی کام کا طریقہ کار سمجھایا۔ جب انڈیا کے وزیراعظم نہرو کو تبلیغی جماعت کے ہل چل سے پریشانی ہوئی تو انہوں اپنی اس پریشانی کا ذکر امام الہند مولانا ابولکلام آزاد ؒسے کیا تو امام الہندؒ نے فرمایا مسٹر نہرواس جماعت سے بے فکر رہو، یہ زمین کے نیچے اور آسمان سے اوپر کی باتیں کرتی ہے لہذا ان کی نقل و حرکت سے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، تبلیغی جماعت کا پہلا اصول یہ ہے کہ سیاست حاضرہ، ملکی حالات اور حکومتی معاملات میں کسی قسم کی کوئی دخل اندازی نہیں کی جاتی،

امن آتشی اور پیار و محبت کا پیغام ہر فرد تک پہنچانا اور ہر مسلمان کو فضائل سنا کر ایمان اور اعمال والی زندگی پر لانا اس جماعت کا مقصود ہے۔ اس جماعت کے 95 سالہ دور میں دنیا کے کسی کونے میں نفرت انگیزی، دہشت گردی اور تشدد کا کوئی واقعہ ثابت نہیں کیا جا سکتا، تبلیغی جماعت میں مسلمانوں کے ہر مسلک، ہر ملک، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر زبان کے لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ایک ہی جماعت میں مختلف خیالات کے لوگ نکلتے ہیں، عرب، عجم، کالے، گورے، امیر، غریب، حکمران، رعایا الغرض مختلف طبقات اور مختلف خیالات کے لوگ مل کر ایک دوسرے سے اس طرح پیار و محبت کرتے ہیں کہ دو حقیقی بھائیوں میں بھی وہ محبت نہیں ہوتی، مولانا محمد الیاس صاحب ؒجب حرمین شریفین میں تھے تو انہوں نے 27 فروری 1938ءکو سعودی بادشاہ جناب عبدالعزیز آل سعود کو ایک خط لکھا جس میں دعوت و تبلیغ کے اصول و قواعد اور طریقہ کے بارے میں بادشاہ کو آگاہ کیا یہ خط مولانا احتشام الحق کاندہلوی کے ہاتھ بادشاہ کو پہنچایا گیا۔

جس کے جواب میں جلالۃ الملک سلطان عبدالعزیز آل سعود نے جواب دیا: آپ نے جو پاکیزہ جدوجہد اپنے سلف صالحین کے عقیدہ کی طرف دعوت دینے میں کی ہے اور اس سلسلہ میں آپ کی جو عمدہ خدمات ہیں، ان پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ہم سب کو ایسے کاموں کی توفیق دے جن میں اصلاح اور خیر ہو۔ اس کے دو ہفتے بعد 14مارچ 1938ء کو حضرت مولانا محمد الیاس دہلوی ؒ چند علماء کی معیت میں جلالۃ الملک عبدالعزیز آل سعود کے ساتھ ملاقات کے لئے تشریف لے گئے جلالۃ الملک نے بہت اعزاز کے ساتھ مسند سے اتر کر پرتپاک استقبال کیا

- Advertisement -

اور اپنے قریب ہی حضرت مولانا محمد الیاس اور دوسرے مہمانوں کو بٹھایا حضرت مولانا نے اپنا مقصد بیان کیا جس پر سلطان نے تقریباً 40 منٹ تک توحید و کتاب و سنت اور اتباع شریعت پر طویل تقریر کی، گفت و شنید کے بعد پھر اپنی مسند سے اتر کر بڑے عزت کے ساتھ مولانا محمد الیاس دہلویؒ اور ان کے وفد کو رخصت کیا، سعودی عرب کے مشہور عالم اور مفتی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمتہ اللہ سے کسی نے خط کے ذریعے تبلیغی جماعت کے بارہ میں سوال کیا، بن باز ؒ نے تمام اعترضات کے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ میں ہمیشہ اہل علم و اہل بصیرت بھائیوں کو وصیت کرتا رہا ہوں کہ دعوت والے کام میں ان کے شریک ہوں تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہوتا رہے،

جماعت کی تعریف کرنے اور ان کے حق میں خیرخواہی کی وصیت کرنے میں ہمارے شیخ سماحۃ الشیخ محمدابن ابراہیم آل شیخ (اس دورکے سعودی عرب کے مفتی اور رئیس القضاۃ) نے ہم سے سبقت کی چنانچہ انہوں نے منطقہ شرقیہ والوں کو 1373ھ میں خط لکھا اور اس میں ذکر کیا کہ ان لوگوں کا اہم مقصد مساجد میں وعظ و نصیحت کرنا اور لوگوں کی رہبری کرنا توحید اور اچھے عقائد پر تیار کرنا اور کتاب و سنت پر عمل کی ترغیب دینا ہے۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمۃ اللہ نے اپنی تحریروں اور تقریروں میں تبلیغی جماعت کا جتنا دفاع کیا ہے اور لوگوں کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیاہے

شاید کہ دنیا کسی اور عالم دین اتنا کیا ہو، ان کی قبر پر اللہ تعالیٰ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، آج ان کی روح کو کس قدر تکلیف پہنچی ہو گی کہ ان کے ناخلف جانشینوں نے اسی ممبر و محراب کو دین اسلام کی تبلیغ کرنے والے دنیا کی سب سے بڑی جماعت کو تنقید کانشانہ بنا کر عوام کو اس سے دور رہنے کا مطالبہ کیا، سعودی عرب کے شعبہ الدعوۃ الارشاد نے 1407ھ میں اپنا مندوب رائے ونڈ کے اجتماع میں بھیجا تاکہ وہ اجتماع کے متعلق رپورٹ بنا کر سعودی حکومت کو ارسال کرے، اس نے جو رپورٹ مرتب کر کے سعودی حکومت کو بھیجی اس میں لکھا ”یہ اجتماع اہل جنت کے اجتماع کے مشابہ تھا نہ چیخ و پکار تھی، نہ تھکاوٹ، نہ بدنظمی تھی نہ لغویات، اور نہ کذب بیانی، ماحول صاف ستھرا تھا نہ بدبو نہ میل و کچیل، یہ اجتماع بڑی سنجیدہ ترتیب کے ساتھ مرتب تھا، نہ ٹریفک نہ پولیس نہ رضاکار، نہ پہریدار،

حالانکہ مجمع لاکھوں سے زیادہ تھا زندگی معمول و فطرت کے ساتھ چل رہی تھی اور اس فطری زندگی کو ذکراللہ، علم، بیانات، درس و تعلیم، اور ذکر کے حلقوں نے دن رات گھیرا ہوا تھا، اللہ کی قسم! یقینا وہ اجتماع ایسا تھا جس سے مردہ قلوب زندہ ہوتے تھے اور ایمان بڑھتا اور چمکتا تھا تو کیسا حسین و جمیل تھا وہ اجتماع اور کسی شان وشوکت اور آب و تاب والا تھا وہ منظر جس کے دیکھنے سے صحابہ ؓ، تابعین ؒ اور تبع تابعین ؒکی زندگیوں کی منہ بولتی تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی۔ یہ ابن سلیمان کے پیشرو حکمرانوں اور علماء کرام کی غیرت ایمانی کی جھلک تھی اور اب ابن سلیمان کے حکم سے گزشتہ چند روز پہلے جمعہ کو سعودی عرب کے مساجد میں ممبر و محراب سے جو کچھ تبلیغی جماعت کے خلاف کہا گیا

اس سے نہ صرف اس کے آباؤ اجداد کی ارواح کو دھچکا پہنچا ہو گا بلکہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے سرشرم سے جھک گئے کہ ایک طرف تو ابن سلیمان کے حکم سے سینما، شراب خانے، جوا خانے، ناچ گانے اور خرمستی کی محفلیں اس پاک اور مقدس سر زمین پر کھلے عام منعقد ہونا شروع ہو گئی ہیں جو لوگ بیت اللہ میں آ کر اللہ کے سامنے سربسجود ہوتے تھے اور بیت اللہ کی زیارت سے دلوں کو سکون پہنچاتے تھے آج وہ بھارتی اداکاراؤں کے ناچتے تھرکتے جسموں کے نظاروں میں مصروف ہیں اور دوسری طرف دین کی دعوت و تبلیغ پر نہ صرف پابندی بلکہ اس کے خلاف ممبر و محراب کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] (مسائل نیوز)ایوارڈ یافتہ معروف فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی نے کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت اب چھوڑ دی ہے، دسمبر سے ان […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.