غیر مقبول فیصلے کیے جس کا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کا کہنا ہے کہ غیر مقبول فیصلے کیے جس کا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ عمران خان کا بیانیہ بہت مقبول ہوا اس میں کوئی شک نہیں۔ تحریک عدم اعتماد سے پہلے تک ان کی مقبولیت بہت خراب ہوچکی تھی۔ تحریک عدم اعتماد کے بعد بہت سے روٹھے ہوئے لوگ بھی ان کی طرف آ گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ 35 پنکچر کا بیانیہ اگر مقبول ہو گیا تھا تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ سچ تھا۔
ہم نے غیر مقبول فیصلے کیے جس کی وجہ سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے پاکستان کے عوام دیکھیں گے کہ حکومت ڈیلیور کر رہی ہے تو ہمارا مقبولیت کا گراف ریکور ہو رہا ہوگا۔
دوسری جانب سینئر صحافی رانا عظیم نے دعوی کیا ہے کہ دو وفاقی وزیر فیملی سمیت ملک سے چلے گئے۔92 نیوز رپورٹ کے مطابق رانا عظیم نے کہا کہ 72 گھنٹے میں جو فیصلے ہونا تھا وہ ہو چکے، اب نئی تعیناتی اور اقتدار پر امن طور پر ختم کر کے نئے انتخابات کی طرف جانے کا عمل چل رہا ہے۔
- Advertisement -
حکومت کے ایوانوں میں بے پناہ مایوسی ہے، آنے والے دن فیصلہ کن ہیں، بڑے میاں صاحب کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ چھوٹے میاں صاحب جھڑکیاں کھا کر واپس آرہے ہیں۔رانا عظیم نے مزید کہا کہ لانگ مارچ میں تیزی آ گئی ہے، بیک ڈور رابطوے شروع ہوگئے ہیں، کپتان کو نئی تعیناتی کے حوالے سے مطمئن کر دیا گیا ہے۔حالات تبدیل ہو چکے ہیں ،بہت سی جگہ پر ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور ان بڑے اہم فیصلے ہو رہے ہیں۔
پی ڈی ایم کی دو پارٹیوں نے اسد قیصر اور پرویز خٹک سے رابطے کیے ہیں کہ ہم ان کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں،ہمیں اپنے ساتھ رکھو۔ رانا عظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دو وفاقی وزیر اپنی فیملی سمیت ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔رانا عظیم نے مزید کہا زمان پارک سیکیورٹی بڑھانے کا مقصد یہ تھا کہ اطلاعات ہیں کہ خود کش حملہ یا گاڑی ٹکرا سکتی ہے۔