جمہوریت کا عالمی دن
تحریر: کنول زہرا
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے, دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعوی کرنے والے ملک کے صحافی کچھ اس طرح اپنی جمہوریت کو بے نقاب کرتے ہیں
معروف صحافی اور ادیب خشونت سنگھ نے اپنی کتاب، دی اینڈ آف انڈیا، میں کہا تھا : ’’بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے ‘پاکستان یا دنیا کا کوئی بھی ملک بھارت کو تباہ نہیں کرے گا بلکہ یہ اپنے آپ ہی تعصبانہ رویوں کی بدولت خودکشی کا ارتکاب کر ے گا ‘‘۔ڈاکٹر امبیدکر نے جو بھارت کے آئین کے معمار ہیں، ہندو ہونے کے باوجود کہتے تھے کہ میں ہندو کی حیثیت سے پیداتو ہو گیا، اس لئے کہ پیدائش پر میرا بس نہیں چلتا تھا مگر میں ہندو کی حیثیت سے ہرگز نہیں مرنا چاہوں گا‘ چنانچہ وہ اپنی زندگی کے آخری دور میں بد ھ مت کے پیرو کار ہو گئے تھے۔ معروف بھارتی مصنفہ ارون دتی رائے نے 23دسمبر2015ء کو ممبئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ بھارت میں اقلیتیں خوف کے ماحول میں رہ رہی ہیں اور تشدد پسندی کے بڑھتے ہوئے جارحانہ رویوں کو ’’عدم رواداری‘‘ کے چھوٹے سے نام میں نہیں سمویا جا سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب میں عدم برداشت بہت ہے اسی وجہ سے تو بھارتی آئین کے معمار ڈاکٹر امبیدکر نے ہندو مت چھوڑ کر بدھ مذہب اختیار کر لیا تھا۔ بھارت کی ممتاز صحافی تلوین سنگھ کہتی ہیں :’’بھارت میں اقلیتوں پر جس حساب سے ظلم ہو رہا ہے، اس نے ساری دنیا میں بھارت کو رسوا کر کے اس کے منہ پر کالک مل دی ہے
بھارت کبھی بھی اقلیت برداری کے لئے محفوظ ملک ثابت نہیں ہوا جس کی اولین مثال 1947 ہے جب پاکستان بنا تھا پھر 1984کی مثال بھی دنیا کے سامنے ہے, جب سکھ برداری کے اوپر بھیانک ظلم ہوا تھا, جب سکھوں کے مقام مقدس گولڈن ٹمپل پر دراندازی کرکے تقربیا پانچ ہزار کے قریب نہتے سکھوں کو تہہ تیغ کیا گیا۔
13اکتوبر2015ء کو بھارتی پنجاب کے علاقے فریدکوٹ میں ہندوؤں نے ایک گردوارے کے قریب سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب کے سو سے زائد مسخ شدہ نسخے پھینک دئیے۔ اطلاعات کے مطابق ان نسخوں کو گردوارے سے کچھ روز پیشتر چور ی کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے پر پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس سے پانچ افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے جبکہ لاتعداد مظاہرین کو گرفتار کرکے ان پر تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں پے در پے گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کے واقعات بڑھے اور جالندھر، لدھیانہ ، امرتسر، کوٹ کپور میں چھ مختلف واقعات میں سکھوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کر کے سکھ کمیونٹی کے جذبات مجروح کئے گئے
اسی طرح گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے متعلق سب جانتے ہیں, اس حوالے سے ہی مودی کو گجرات کا قصائی کہا جاتا ہے, بلکہ بھارتی صحافی رانا ایوب نے اس موضوع پر مفصل کتاب لکھی ہے
- Advertisement -
2014ء کے اواخر میں دہلی کے بڑے گرجا گھر سینٹ سیستان چرچ میں آگ لگاکر اس کی بے حرمتی کی گئی اور 2015ء کے اوائل میں دلی کے ایک اور چرچ میں توڑ پھوڑ کی گئی ‘ مجسموں کو توڑا گیا۔ چر چ میں لگے خفیہ کیمرے کی آنکھ نے حملہ آوروں کا ریکارڈ محفوظ کر لیا مگر ریاستی اداروں نے پھر بھی مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا۔ دلی میں مسیحی سکول ہولی چائلڈ پر بھی حملے ہوئے اور پولیس و دیگر ادارے ملزموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں رہے۔ اس سے قبل ریاست کیرالہ ، آندھرا پردیش کے واقعات کسے یاد نہیں جن میں درجنوں گرجا گھروں پر بم برسائے گئے اور مسیحی قبرستانوں کو اکھاڑ دیا گیا۔ایسے واقعات کے خلاف جب بھی مسیحی برادری نے پرامن احتجاجی جلو س نکالا اور نفرت آمیز رویوں کے خلاف سراپا احتجا ج ہوئے ان پر ریاستی اداروں نے چڑھائی کر کے ان پرتشدد کیااور گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ مسئلہ اٹھایا تھاکہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ، امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ہم اس امر سے یقینی طور پر آگاہ ہیں کہ بھارت میں اجتماعی طو ر پر لوگوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بھارت کی 79.80 فیصد آبادی ہندووں، 14.2 فیصد مسلمانوں، 2.3 فیصد مسیحی افراد، 1.7 فیصد سکھوں 0.7 فیصد بودھ، 0.4 فیصد جین مت کے ماننے والوں اور 0.07 فیصد یہودیوں، پارسیوں اور دیگر قبائلی مذبی اقلیتوں پر مشتمل ہے۔
یوں مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سیکڑوں برس حکمران بھی رہے۔
تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا اور بھارت کے بانی رہنماؤں میں سب سے معروف موہن داس کرم چند گاندھی کو ہی 1948 میں ہندو مسلم اتحاد کی وکالت کرنے پر ایک ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈسے نے قتل کردیا تھا۔
ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت مہاتما گاندھی کو ‘غدار’ قرار دیتی ہے حالانکہ وہ خود ایک کٹر ہندو تھے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گاندھی کے قاتل کو ہیرو کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
سابق امریکی صدر بل کلنٹن کے 19 مارچ 2000ء کے دورہ بھارت کے دوران مقبوضہ کشمیر کے جنوبی ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوج کی وردی میں ملبوس مسلح افراد نے سکھ برادری کے 35 سے زائد افراد کا قتل عام کیا تھا۔ جبکہ ٹرمپ کے دورہ بھارت پر یہ آفت دہلی کے مسلمانوں پر ٹوٹی اور مسلم کش فسادات میں بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصان ہوا۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ناروا سلوک برتا جاتا ہے۔ مودی نے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرکے بھارت میں صرف ہندوئوں کے رہنے کیلئے قانون سازی شروع کر رکھی ہے۔ اس سے قبل گائے کے گوشت کھانے کے شبہ اور مسلمانوں جیسا حلیہ بنانے پر کئی افراد کو بلوائیوں نے تشدد کرکے مارا۔ اقوام متحدہ جس کے چارٹر میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بنانا شامل ہے وہ خود اقلیتوں کے قتل عام پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ جبکہ انسانی حقوق ، او آئی سی اور عرب لیگ سی تمام تنظیمیں بھی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے قتل عام پر چپ سادھے بیٹھی ہیں جو قابل افسوس ہے۔ ۔
دہلی فسادات، جس میں 53 سے زائد مسلمانوں کی جانیں گئیں، اس دوران باپردہ مسلمان خواتین کے پردے کو بھی نشانہ بنایا گیا
سیکولرازم کا لبادہ اوڑھے اکھنڈہندو بھارت کی برسر اقتدارانتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی پارٹیشن کے بعد تاریخ کی بد ترین سول ڈکٹیٹرشپ سے کم ثابت نہیں ہوئی اور اسکی بنیادی وجہ ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس سے جنم لیکر بی جے پی کی کوکھ میں پرورش پانے ولا نام نہاد سیاسی گماشتہ بھارتی وزیر اعظم اور دور حاضر کافاشسٹ اور ہٹلر پالیسیوں کا علم بردار نریندرا مودی ہے جو کہ اپنی ظالمانہ پالیسیاں لاگو کرتے ہوئے بھارتی اقلیتوں پر زمین تنگ کرتا چلا جا رہا ہے اور مودی کی آمرانہ اور ظالمانہ پالیسیوں کا براہ راست خصوصی ٹارگٹ بھارتی مسلمان ہیں۔ 12دسمبر 2019کو بھارتی پارلیمنٹ راجے سبھا نے بھارتی شہریت کے قا نون میں ترمیم کرتے ہوئے اسے تبدیل کر دیا اور اسے متنازعہ حیثت میں ہیCAB(Citizenship Amendment Bill) منظور کروالیااور اس نئے متنازعہ بل کے تحت بھارت کے تین ہمسایہ ممالک پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنیوالے 6 مذاہب ہندو ،سکھ ،عیسائی ،پارسی ، بدھ مت اور جین مت سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو بھارتی شہری تصور کرتے ہوئے فوری شہریت دیدی جائیگی چاہے انکے پاس قانونی دستاو یز موجود ہو یا نہ ہو جبکہ مسلمان تارکین وطن اس شہریت حاصل کرنے کا استحقاق نہیں رکھ سکتے دوسرے لفظوں میں اس ترمیم کو سیاسی پناہ کا نام دیا جا رہا ہے۔اس شہری تر میمی بل کے رد عمل میںبھارت کے پورے شرق غرب میں احتجاجی مظاہرے شروع ہیں ۔اور ان مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی مرکزی اور صوبائی حکومتیں بد ترین ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے اپنے ہی شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے جس کا پہلا اور بڑا شکار دہلی کی یونیورسٹی جامیعہ ملیہ اسلامیہ ہوئی جہاں طلبہ و طالبات کے ہوسٹلوں میں گھس کے ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے
اپنے آپ کو سب سے بڑا سیکولر ملک کہنے والا بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافت کو ہراساں کر دیا ہے, اکثر صحافی وادی چھوڑ چکے ہیں
اگست 2019 میں بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر کی خصوصی خود مختاری کی یکطرفہ منسوخی کے بعد، کشمیری صحافیوں کو اس وقت نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا جب حکام نے انٹرنیٹ بند اور مواصلاتی بلیک آؤٹ نافذ کیا۔ • فروری 2021 تک 4G تک رسائی باضابطہ طور پر بحال نہیں کی گئی تھی۔ ڈیجیٹل بلیک آؤٹ مانیٹرنگ ویب سائٹ InternetShutdown.in کے مطابق حکام نے اس سال کشمیر کے مختلف علاقوں میں کم از کم 25 بار انٹرنیٹ بند کیا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قانونی طور پر ہراساں کرنا، دھمکیاں دینا، جسمانی حملے کرنا اور صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے گھروں پر چھاپے مارنا معمول بن چکا ہے۔
بھارت میں اس وقت علیحدگی کی بڑی چھوٹی کم و بیش 65 تحریکیں چل رہی ہیں جن میں نمایاں ،کشمیر ،خالصتان ، آسام اورناگا لینڈکی تحریکیں زور پر ہیں جنہیں بھارتی فورسز با زور شمشیر کچل رہا ہے۔ اور ان نوجوان خون کی جہد مسلسل کی بدولت وہ دن دور نہیںجب بھارت اپنی اکٹھنڈتا کا خواب ریزہ ریزہ ہوتا دیکھے گا