MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

دوستی کی آڑ میں آئین کی خلاف ورزی

0 271

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی جنوری 1969ء کو کوئٹہ کے خلجی پشتون خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا طب کا کاروبار تھا جو سنہ 1997ء میں والد کی وفات کے بعد قاسم نے سنبھالا۔
قاسم نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ اسلامیہ اسکول سے حاصل کی اور 1988ء کو فیڈرل گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ انہوں نے سنہ 1990ء میں سیاسیات میں بیچلر کی سند اور 1992ء میں بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی سند، دونوں جامعہ بلوچستان سے حاصل کی۔
قاسم سنہ 1996ء سے پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ہیں لیکن سنہ 2007ء سے فعال رکن بنے۔
وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2013ء میں حلقہ این 259 (کوئٹہ) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے، لیکن ناکامیاب رہے۔ انہوں نے محمود خان اچکزئی کے مقابلے میں 16,006 ووٹ حاصل کیے اور نشست ہار گئے۔
وہ پاکستان کے عام انتخابات، 2018ء میں حلقہ این 256 (کوئٹہ-2) سے قومی اسمبلی پاکستان کی نشست کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے اور رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے 25,973 ووٹ پائے اور نوابزادہ لشکری رئیسانی کو شکست دی۔
انتخابات میں قاسم کی کامیابی کے بعد، پی ٹی آئی نے ان کو 13 اگست 2018ء کو قومی اسمبلی پاکستان کا ڈپٹی اسپیکر نامزد کیا۔ 15 اگست 2018ء کو وہ نائب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان منتخب ہوئے۔ انہوں نے 183 ووٹ حاصل کیے اور اپنے مد مقابل اسد محمود کو شکست دی۔
یکم اپریل 2022 کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک کے رد عمل کے طور پر انہوں نے عین اس وقت استعفی دے دیا جب اگلے وزیر اعظم کے طور پر انتخاب ہونے جا رہا تھا, انہیں عمران خان کے دیرینہ دوستوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔دوستی کا رشتہ اپنی جگہ مگر دوستی کی آڑ میں آئینی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں, قاسم سوری ک سیاسی زندگی کے پہلووں کے بعد ان کی آئینی خلاف ورزیوں پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں.
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو برطرف کرنے کے فیصلے نے پی ٹی آئی کا پردہ چاک کرکے ان کے نام نہاد انصافیوں کا اصل چہرہ بے نقاب کیا ہے,چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو برطرف کرکے قاسم سوری نے اپنی آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی کی۔
تین اپریل کا فیصلہ آرٹیکل 69(1) کے تحت پارلیمنٹ کی داخلی کارروائی کے تحفظ میں ناکام رہا کیونکہ  قومی اسمبلی میں ووٹ کا نتیجہ نہیں تھا، یہ یکطرفہ فیصلہ تھا
سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے عمران خان کے بیانیے کے مطابق بین الاقوامی سائفر عدالت عظمیٰ کو نہیں دکھایا گیا لیکن قاسم سوری نے متعصبانہ فیصلے کی حمایت میں جاری کردہ تفصیلی وجوہات میں اس کا انکشاف کیا ۔
تحریک انصاف نے دو اپریل کے کابینہ کے فیصلے میں اپوزیشن اور غیر ملکی ریاست کے درمیان مبینہ ملی بھگت کو ظاہر کرنے کے لیے انکوائری کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔ لیکن عمران خان  کی طرف سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کی جبکہ اس طرح کی انکوائری یا تو وفاقی حکومت کی طرف سے 2017 کے ایکٹ کے تحت تشکیل کردہ کمیشن یا پارلیمنٹ کے کسی ایکٹ یا آرڈیننس کے تحت تشکیل کردہ خصوصی کمیشن کے ذریعے کی جا سکتی تھی مگر ایسا نہیں ہوا, قاسم سوری کے حکم نے یکطرفہ طور پر آئین کے ذریعے دیے گئے ووٹ کے حق سے انکار کر دیا تھا، اس لیے آرٹیکل 69(1) کے تحت کوئی استثنیٰ اس سے منسلک نہیں ہے اور عدالت اس کا جائزہ لے سکتی ہے۔ لہذا یہ مقدس اتھارٹی کی خلاف ورزی تھی جس کے تحت عمران خان اور قاسم سوری پر آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔
اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت تھی جس کی صدر عارف علوی،  عمران خان، اسد قیصر، قاسم سوری اور فروغ نسیم نے خلاف ورزی کی۔یہ غیر آئینی اقدامات آئین کے آرٹیکل 6 کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
قاسم سوری کی کارروائی متعصبانہ تھی، جس کی بنیاد پر، اگر نئے انتخابات کرانے کی اجازت دی جاتی ہے، تو یہ نظریہ ضرورت کی غیر معمولی طاقت کا غلط استعمال کرنے کے لیے کسی اتھارٹی کو لائسنس دینے کے مترادف ہوگا۔
ہمیں ہر اس عمل کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہو۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.