MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بیلنس تھی، چیزیں بہت واضح کردی ہیں

0 253

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز) پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بیلنس تھی انہوں نے چیزیں بہت واضح کردی ہیں۔ واضح کر دیا گیا روس دورے کا فیصلہ تنہا نہیں تھا۔ اپنے بیان میں شاہ محمودقریشی نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمارے مؤقف کی تائید کر دی ہے ہمارا مؤقف تھا مراسلے میں سیاسی مداخلت کا ذکر ہے ،پریس کانفرنس سے ہمارے مؤقف کوتقویت ملتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے ،چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن ترتیب دیں مناسب ٹی اوآرز کیساتھ چھان بین کریں جسے اہمیت دی جائے، مناسب حل یہ ہے سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے ،کمیشن کے سامنے مراسلہ، قومی سیکیورٹی کمیٹی کے منٹس رکھیں۔وائس چیئرمین نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز ہے پبلک اس طرح نہیں کرنا چاہیے۔

- Advertisement -

دستاویزمیں سیکیورٹی کوڈ ہے اس سے پاکستان کا خفیہ سسٹم سامنے آسکتا ہے ،مراسلے کا اخباروں میں شائع ہونا مناسب نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کی پریس بریفنگ کا مقصد قومی سلامتی صورتحال سے آگاہ کرنا تھا، پریس کانفرنس کے بعد کسی بھی قسم کا سوال کیا جا سکتا ہے، جو حالات چل رہے ہیں ان کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈر کانفرنس ہوئی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلنے والی مہم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹیں ، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں۔ نہ یہ کوشش پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہو گی، بہتر ہے کہ فیصلے قانون پر چھوڑ دیے جائیں۔ پراپیگنڈا مہم غیر قانونی،ملکی مفاد کے خلاف ہے۔بےبنیاد کردار کشی کسی صورت قبول نہیں،تعمیری تنقید مناسب ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر سے خفیہ خط سے متعلق قومی سلامتی اجلاس کے اعلامیے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں سازش کا لفظ نہیں،کسی کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھنے دیں گے۔ ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپشنز اسٹیبلمشنٹ کی طرف سے نہیں دئے گئے، وزیراعظم آفس کی جانب سے پیغام موصول ہوا تھا جس کے بعد 3 آپشنز پر بات چیت کی گئی۔ان کے ساتھ بیٹھ کر 3 آپشنز پر بات ہوئی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.