MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

امن کا خواب

0 606

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: مدثر ظفر
معاشرے کی اصلاح، فلاح بہبود کے امور کو کامل انجام دہی تک ممکنہ طور پر بآسانی تب انجام تک رسائی ممکن ہو جب امن کا بول ہر سو بالا ہو، اس کے برعکس بد امنی انسان کی زندگی اورایک سلجھے ہوئے معاشرے کی تخلیق کے لئے وجہِ اضطراری ہے۔ بدامنی کے اسباب کا ادراک ہر ذی شعور نفس کے زمے فرض سمجھتا ہوں میں۔ ماسوائے امن و امان کے لوگوں کی زندگیوں میں کامرانی ممکن نہیں، حوصلوں میں بلندی کے بجائے پستی کا شکار ہوجانا، تخیّلاتی زہن منجمد رہ کر بے احساسی کی جانب گامزن ہو کر لاشعوری طور پر خود کی زات سے نفرت کرنا،

خود کے ساتھ اور معاشرے پر بھی قابلِ رحم سلوک روا رکھنا، ناامیدی کے دامن سے قربت اختیار کرلینا، سکون کی ناپیدی سے راحت کو ترسنا، لوگوں کی بھیڑ میں بھی اپنے تئیں اکیلا پن محسوس کرنا ان عناصر کے سبب زندگی کے انواع شادمانی کا جلوہ افروز ہونا قطعاً یقینی نہیں۔ اس شورشیں (ہنگامے)حالات کے سبب دیدہ گریاں اور سُوئے اسیران ِقفس جیسے لوگ عدم(موت کے بعد کی زندگی) زیست کے متلاشی ہیں۔خواب ہرآنکھ دیکھتی ہےمگرتعبیرسب کی ممکن نہیں۔ وہ روشنی بھی مدھم پڑ جاتی ہے جس چراغ کی بتی گُل ہونے کو ہو۔
امن ایک عظیم نعمت ہے۔ امن کے مژدہ سننے کو ہر کان ترستی ہے،وہ کونسا دل ہے جس کی دھڑکن امن کے لئے نہ دھڑکتا ہو، وہ خون بھی خون نہیں جس کی فشار میں امن کی خواہش شامل نہ ہو ۔ یہ وہ خواب ہے جسے انسان صرف رات کی تاریکی اور نیند کی حالت میں نہیں بلکہ ہرلمحہ دیکھ سکتا ہے، یہ خواب تاریک رات کی محتاج نہیں بلکہ دن کے اجالے میں جب آفتاب اپنی جاہ ہ جلال کے ساتھ پر رونق ہو تب بھی یہ خواب دیکھا جاسکتا ہے۔ اس خواب کی تعبیر کو جِلا تب بخشی جائے گی جب قلب و قیاس میں غلامی کی زنجیریں ضمیر کے ہتھوڑے سے ٹوٹ کے بکھر جائیں،

- Advertisement -

حواس باختگی سے انحراف ہو اور موزوں ادھیڑبُن کے امر کو بلاشبہ ترویج دینے کا رواج عام ہو۔ ماؤں نے اپنے لال، اپنے جگر کے ٹکڑوں کی قربانی دے کر اس خواہش کی تکمیل کا عزم کیا ہے۔مثبت سوچ اور اس خواب کے تکمیل کی صورت میں انسان اپنی قیاس اور بساط کےموافق گلِ خنداں ماحول کو اپنی زات کے لیئے مغتنم سمجھے گا۔ اس شورش زدہ حالات میں منجمد روح کی تلخیاں، بغض و عناد کا سبب امن کے گہوارے سے ذاتِ انسان کی دوری و محرمیوں کےکھٹن واقعات سے مضمر ہے۔ان کھٹن مراحل اور تاریک رات میں صبحِ اجالا کےخواب کوتعبیربخشنا ذندہ دل لوگوں کی نشانی ہے۔علامہ اقبال جو اُس وقت کے خستہ حال و منہدم دورمیں بھی ایک پرامن اورعلیحدہ وطن کا خواب سوچتےہیں پھراس خواب کوحقیقی روپ میں دھارنے کی کوشش کی گئی جو کوشش آج تک نامکمل طور پر جاری و ساری ہے۔
روٹی، کپڑا اور مکان ہی فقط جینے کے زرائع نہیں، جیون میں ایک اور نعمتِ عظمیٰ ہے جسے ‘امن’ کہا جاتا ہے ۔ امن کی بحالی و قیام انسان کے اُن تمام رموز کی ادائیگی میں صفِ اول کی سی حیثیت کے محتمل ہے جو جینے کےتمام رموز کے لئے کارگر ہے۔ امن کی خواہش کرہِ ارض پر بسنے والے ہر اس شخص کی خواہشات میں شامل ہے جو اس کا خواب دیکھتے ہوئے قدرت کی طرف سے کسی غیبی مدد کے منتظر نگاہیں جمائے زیست کے اُن کھٹن لمحات کو بِنا انبساط کے جینے کو لاچار ہیں اور نا جانےکتنے مزید ایسے لوگ بھی ہیں جو اس خواب کی تعبیر کی تکمیل سے قبل دارِ فانی کوچ کر کے منوں مٹی تلے جا سوئے ہیں۔
جہالت،بےخواندگی،خود مستی،محوِقیاس کواپنےتئیں تک محدود رکھنا،رفتگی کا وجود،عدو کی ناقص پہچان،حق بات کے کریدنے سے بیزاری،حسنِ ظن کی موت، ترقی کرنے کے سوچ سے دوری ان عناصر کے سبب امن کے خواب کا سدّباب ہونا تو یقینی ہے۔یہ ایک انمول خواب ہے، شاہ کے جاو منصب سے بھی بڑھ کر کےخواب ہے، اگر امن کا قیام یقینی نہ ہو تو بادشاہ اپنےمحل میں بھی سکون سے رہ نہ پائے۔قضاقدر(تقدیرِ الہیٰ) بھی موردِ وجود تب بخشتی ہے جب انسان خودکی زات میں تبدیلی لانے کی تگ و دو میں مصروفِ عمل ہو، اس خواب کی تعبیر انسان کی سوچ،

اُس کی استطاعت، اُس کی تگ و دو، اُس کی چاہت، اپنوں کی خوشیوں سے آراستہ زندگی کے جینے پر منحصر ہے۔ امن کے قیام میں محبت کے پرچار کو عام کیا جائے،فضاء انسانیت سے محبت کی خوشبو سے معطر ہو، انسان کوتعظیم و اکرام کی نظر سے بحیثیت انسان دیکھا جائے، ملک و قوم کی سلامتی اولین ترجیحات میں شامل ہو، رگوں میں انا سے پاک خون دوڑتا ہو۔ یہ پیغام بلخصوص امن برقرار رکھنے والے پہراداروں کے نام بھی۔ ماسوائے اقدامات اٹھانے اور اس خواہش کے دبا لینے سے لوگوں کا خواب خواب ہی رہ جائے گا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.