سی پی ایف ٹی اے میں پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
پاک(ویب ڈیسک) چین فری ٹریڈ معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے غلط استعمال کی خبروں کے باعث حکومت نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ثبوتوں کے ساتھ اعداد و شمار کی بنیاد پر چین سے درآمد شدہ پیٹرول کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
- Advertisement -
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سی پی ایف ٹی اے کے تحت دوبارہ کیے گئے مذاکرات کے تحت، حکومت نے 31 دسمبر 2019 کو قانونی ریگولیٹری احکامات جاری کیے تھے جس میں پیٹرول کی درآمد پر ٹیرف کو ختم کر دیا گیا تھا۔ یکم جنوری 2020 سے چین سے پیٹرول کی درآمد پر کوئی کسٹم ڈیوٹی نہیں تھی۔دیگر تمام ذرائع، زیادہ تر مشرق وسطیٰ سے عام پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگائی جاتی ہے
جبکہ اسی طرح کی ڈیوٹی مقامی ریفائنریز کی پیداوار پر لاگو ہوتی ہے۔اس کے نتیجے کے طور پر چین سے درآمد پیٹرول پر 10 فیصد کی بچت ہوئی تاہم اس کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کے بجائے کمپنیوں نے منافع کو ونڈفال پرافٹ کے طور برقرار رکھا جبکہ عالمی پلاٹس آئل گرام رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے سے 12 روپے تک کا روزانہ فرق ہوتا ہے۔