MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سرد موسم کا گرم واقعه

0 770

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
سات مارچ 1971ء کو مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب الرحمان نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو علیحدگی کا مطالبہ کریں گے۔
مارچ 1971ء میں شیخ مجیب الرحمن نے عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی۔ جس کی وجہ سے 25 مارچ 1971ء کو فوج نے شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کر لیا اور مشرقی پاکستان میں 26 مارچ 1971ء سے فوجی کارروائی شروع کر دی۔ جواب میں بنگالی عوام نے شدید مزاحمت کی اور بڑے پیمانے پرخانہ جنگی شروع ہو گئی، جسے بنگالی میں ( مکتی جدھو) اور سقوط ڈھاکہ کیوں ہوا اس حوالے سے غیر جذباتی اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اولین سبب ہماری قیادت کا بے وجہ جذباتی پن تھا جس میں بنگالی کو اردو کے ساتھ قومی زبان کا درجہ نہ دینا تھا۔ اس بے جا اصرار کے نتیجے میں بنگالی عوام کے جذبات سے کھیلا گیا ۔ـ” سرکاری زبان صرف اردو ہوگیـ” کا نعرہ ایک بلا وجہ کا جذباتی ایشو تھا جس کی بے مقصد کشمکش نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے باشندوں کے درمیان نفرت کے بیج بوئے اور زبردست انتشار پیدا کیا۔ جس کا نتیجہ سقوط مشرقی پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا۔ قائداعظمؒ نے 1948ء میں رمنا ریس کورس گراؤنڈ میں اردو کو پاکستان کی واحدسرکاری زبان قرار دینے کا اعلان کیا اور جواب میں اسی وقت قائداعظمؒ کے اس اعلان کے خلاف احتجاج شروع ہوگیا اور شیخ مجیب الرحمن نے ایک طالب علم رہنما کے طور پر بنگالی طلباء کے وفد کے ساتھ قائداعظم سے ملاقات کی اور اردو کے ساتھ ساتھ بنگلہ کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ لیکن اس مطالبے کو نہیں مانا گیا۔ اردو کو پاکستان کی واحدسرکاری زبان قرار دینے کے خلاف اور بنگلہ کو بھی سرکاری زبان کا درجہ دینے کے مطالبے کے حق میں ہڑتالیں اور مظاہرے چلتے رہے اور1952ء میں اس تحریک نے ایک نیا موڑ لیا جب وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے جوخود مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے بھی سرکاری زبان صرف اور صرف اردو کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد ڈھاکہ شہر میں شدید مظاہرے ہوئے اور ڈھاکہ یونیورسٹی میں جب طلباء کے احتجاج نے شدت اختیار کرلی تو پولیس کی فائرنگ سے چند طلباء ہلاک ہوگئے ۔ ان طلبہ کی یاد میں اس جگہ ’’شہید مینار ‘‘ تعمیر کردیا گیاجس نے آگے چل کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک میں ایک علامتی صورت اختیار کرلی۔ 1956ء میں بنگالی کو مشترکہ سرکاری زبان کی حیثیت دی گئی مگر اس وقت تک پلوں سے کافی پانی گزر چکا تھا۔
بہت سارے دانشوروں کا خیال ہے کہ دونوں حصوں کی ایک دوسرے سے ہزاروں کلومیٹر دوری ایسی کمزوری تھی جس کے باعث پاکستان کا متحد رہنا ممکن ہی نہ تھا۔یا دونوں حصوں کے لوگوں کی بودوباش، رہن سہن ، زبان ، مزاج میں میں کسی صورت کوئی ہم آہنگی یا مطابقت نہیں تھی سوائے اس کے کہ دونوں حصوں میں بسنے والوں کی اکثریت مسلمان تھی ، جسے دوقومی نظریے کا نام دیکر قیام پاکستان کیلئے ایک طاقتور دلیل قرار دیاگیا، لیکن مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے پر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا ’’آج ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔‘‘خود ہمارے بہت سے دانشور بنگلہ دیش کے قیام کو بھارت ہی کی طرح دو قومی نظریے کو ایک غیر حقیقی قرار دیتے ہیں۔چھ نکات اور 1970کے انتخابات میں مجیب الرحمن کی کامیابی ، ادھرہم ادھرتم کے نعرے، خانہ جنگی ،پاکستان کی فوجی شکست جیسے وقتی اسباب وعوامل تو محض ایک بہانہ تھا۔جسے ہم سقوط ڈھاکہ کہتے ہیں.
شیخ مجیب الرحمٰن کا نام اگرتلہ سازش کے مقدمے میں شامل کرنے کی وجہ سے عوام پہلے ہی ناراض تھے۔ بعد میں کچھ ناپسندیدہ واقعات بھی رونما ہو گئے۔ اس سلسلے کا پہلا غیر معمولی واقعہ سارجنٹ ظہور الحق کی ہلاکت کا تھا۔
سارجنٹ اگرتلہ سازش کیس میں ملوث تھے۔ قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ ابتدا میں سارجنٹ کی ہلاکت کی خبر آئی۔ بتایا گیا کہ انھیں فوج کی حراست میں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ پہلے انھیں سنگینوں سے زخمی کیا گیا پھر گولی چلا دی گئی۔
قدرت الله شہاب کے مطابق عمومی رائے یہی تھی کہ وحشیانہ تشدد کر کے انھیں موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔
اگرتلہ سازش کیس کی بدقسمتی صرف یہی نہیں تھی کہ مقدمے کی سماعت مکمل نہ ہو سکی بلکہ یہ بھی تھی کہ حکومت یہ مقدمہ واپس لینے پر بھی مجبور ہو گئی
اگرتلہ تنازع کے دنوں میں فضا حکومت کے حق میں نہیں تھی۔ مجیب یا اس سازش کے حق میں اگر اس کے پاس کچھ ثبوت تھے بھی تو کوئی ان پر یقین کرنے پر آمادہ نہ تھا۔ مقدمہ ختم ہو جانے کے بعد تو صورتحال بالکل ہی بدل گئی لیکن لیکن 2011 میں بنگلہ دیش سے آنے والی ایک گواہی نے صورتحال بدل دی۔
بنگلہ دیش پارلیمنٹ نے ایک رکن شوکت حسین نے پارلیمنٹ کے اندر انکشاف کیا کہ اگرتلہ سازش کے بارے میں حکومت پاکستان کے الزامات درست تھے۔ انھوں ایک ہیرو کی طرح اپنا کارنامہ بیان کرتے ہوئے کہا: ’یہ الزامات یوں درست ہیں کہ میں خود ان واقعات کا ایک کردار تھا۔‘

- Advertisement -

مکتی باہنی کس نے بنائی؟
مکتی باہنی ایک چھاپہ مار گوریلا تنظیم تھی جس نے بنگلا دیش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔بھارت کی مدد سے تخلیق کردہ اس،دہشت گرد بنگلالیوں پر مشتمل، گروہ نے 1971میں قتلِ عام اورخواتین کی عصمت دری کی۔اس میں نہ صرف بنگالی بلکہ بھارتی فوج کے لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے خصوصی گوریلاجنگ کی تربیت حاصل کر رکھی تھی۔
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ برس بنگلا دیش کا دورہ کیا اور اپنی ایک تقریر میں برملا اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقی پاکستان کے قیام میں شامل بنگالی گوریلا فورس مکتی باہنی کو بھارت کی مدد حاصل تھی۔ مودی نے کہا کہ بھارتی فوج نے مکتی باہنی کے ساتھ مل کر اپنا خون گرایا اور آنے والی نسلوں کو یہ معلوم ہو نا چاہئے کہ بھارتی فوج ہی تھی جس نے مکتی باہنی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملایا ۔
:بھارتی فوج کی مکتی باہنی کو تربیت اور اسلحے کی فراہمی روزروشن کی طرح عیاں ہے۔ بھارتی فوج نے سرحدی علاقوں میں متعدد کیمپ قائم کردیئے تھے جہاں دو ہفتوں سے لے کر دو ماہ تک مکتی باہنی کو ہتھیاروں اور بارود کے استعمال کی تربیت دی جاتی تھی۔ بھارتی خفیہ اداروں نے ہر سطح پر مکتی باہنی کی مدد کی اور ان کے بھیس میں انٹیلی جنس ایجنٹ مشرقی پاکستان میں داخل کئے۔ اس دور کی جدید ٹیکنالوجی بھی فراہم کی۔ اس کے علاوہ بھارتی فوج بہت سے مقامات پر مکتی باہنی کا روپ دھار کر پاک فوج کے خلاف لڑتی رہی۔ بالآخر یہ شرپسند ہماری سپلائی اور نقل وحرکت میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بن گئے۔اس کا اظہارجنگ کے اختتام پر اندرا گاندھی نے یوں کیا ”ہم نے آج پاکستان سے ہزار سالہ تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے۔” اس کے بعد موجودہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے بھی اپنے ایک خطاب میں مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کا برملا ذکر کیا۔
ہم نے من حیث القوم بہت قربانیاں دی ہیں۔ موجودہ حالات میں بھارت کی حرکات کا موازنہ 1971ء سے کرنا ممکن نہیں ۔مشرقی پاکستان میں بھارت نے ہماری سیاسی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ اس نے ہماری جغرافیائی پوزیشن کے ساتھ ساتھ ہماری فوج کی عددی مشکلات کا بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور ہمیں دولخت کردیا, آج پاکستان کم و بیش ویسے ہی حالات سے گذر رہا ہے, اقتدار کی رسہ کشی ملک کو داو پر لگایا جا رہا ہے, عمران خان احسان فراموشی کی مثال بن ڈھائی کا مظاہرہ کر رہے ہیں, ایک بار پھر عوام اور فوج کو مدمقابل لایا جا رہا ہے, حکمرانوں, سیاستدانوں, اور میڈیا کو زمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک و قوم کی فلاح کے لئے کام کرنا ہوگا, جو عناصر اداروں کو متنازعه بنا رہے ہیں انہیں منہ توڑ جواب دینا ہوگا

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.