ِنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک
بقلم: نورالحق فیض ژوبی
دین اسلام ہی اللہ تعالی کی وہ آخری نعمت ہے جو اس عالَم کو دی گئی اور اس آخری نعمت کو انسانوں تک پہنچانے کے لئے اللہ تبارک تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ ربیع الاول ، پیر کو اس دار فانی میں تشریف لائے، پیر کے دن کو بنی بنایا گیااور آپ نے پیر والے دن ہجرت فرمائی، اور ربیع الاول پیر ہی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دار فانی سے انتقال فرماگئے، چنانچہ اس مناسبت سے حضور اکرم صلی اللہ کے حلیہ مبارک پر چند سطریں قلم قرطاس کروں گا، حضور اقدس ﷺ کے جمال مبارک کو کما حقہ بیان کرنا اور تحریر کرنا یہ ناممکن ہے ، نور مجسم کی تصویر کشی قابو سے باہرہے، لیکن اپنی ہمت و وسعت کے موافق اس کو آپ حضرات کے سامنے لکھنے کی کوشش کروں گا۔
حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا امت پر نہایت ہی بڑا احسان ہےکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات معنوی علوم ومعارف کے ساتھ ساتھ کمالات ظاہری حسن وجمال کی بھی امت تک تبلیغ فرمائی، حضور انور ﷺ نہ بہت لمبے قد کے تھے نہ پست قد بلکہ آپﷺ کا قد مبارک درمیانہ یعنی دراز مائل تھا، نہایت خوبصورت اور معتدل بدن والے تھے اور رنگ کے اعتبار سے نہ بلکل سفید تھے چونہ کی طرح، نہ بلکل گندم گوں ، بلکہ چودہویں رات کے چاند سے زیادہ روشن پرنور اور سرخی مائل تھے، پیشانی مبارک کشادہ ،آپﷺ کی ناک مبارک بلندی مائل تھی اور اس پر چمک اورنور تھا، آنکھ مبارک کی پتلی نہایت سیاہ تھی، اور پلکیں دراز، آپ ﷺ کے ابرو خمدار باریک اور گنجان تھے، دونوں ابرو جدا جدا تھے، رخسار مبارک ہموار ہلکے تھے، آپﷺ کا دہن اعتدال کے ساتھ فراخ تھا اور دندان مبارک باریک آبدار تھے اور ان میں سامنے کے دانتوں میں ذرا ذرا فصل بھی تھا، آپﷺ کے داڑھی مبارک بھر پور اور گنجان بالوں کی تھی، آپﷺ کی گردن مبارک ایسی خوبصورت اور باریک تھی جيسے تراشی ہوئی مورتی، حضور اقدس ﷺ کے بال نہ بلکل سیدھے تھے، نہ بلکل پیچدار بلکہ ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالاپن تھا ، گنجان بالوں والے تھے ساٹھ سال کی عمر میں آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے، آپ ﷺ کے بدن پر معمولی بال نہ تھے، آپﷺ کے سب اعضأ نہایت معتدل اور پر گوشت تھے، بدن کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی تھیں، آپ ﷺ کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کا حصہ زیادہ چوڑا تھا ، آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی، پیٹ اور سینہ مبارک ہموار تھا، سینہ سے لیکر ناف تک بالوں کی ایک باریک دھاری تھی، ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں پرگوشت تھا، جو شجاعت اور قوت کی علامت ہے، آپ ﷺ کے تلوے قدرے گہرے اور قدم ہموارتھے۔ محترم قاری! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دو شعر نقل کیے گئے ہیں، جن کا مطلب یہ ہے: کہ زلیخا کی سہیلیاں اگر حضور اقدس انورﷺ کے چہرہ انور دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بحائے دلوں کو کاٹ دیتیں، آپ کے حلیہ بیان کرنے والا صرف یہ کہ سکتا ہے کہ میں نے حضور ﷺ جیسا باجمال باکمال نہ دہکھا ہے نہ سنا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ حضور اقدس ﷺ اس قدرشفاف حسین وخوبصورت تھے گویا کہ چاندی سے آپ کا بدن ڈھالاگیا ہے۔اس لئے تو شاعر رسول ﷺ فرماتےہے:
وأجمل منك لم تر قط عيني
وأفضل منك لم تلد النساء
- Advertisement -
خلقت مبرءاً من كل عيب
كأنك قد خلقت كما تشاء
آپ ﷺ سے زیادہ حسین نہ کبھی میری آنکھوں نے دیکھا
اور نہ ہی آپﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی ماں نے جنا
آپ ﷺ ہر ہ عیب سے پاک پیدا فرمائے گئے
گویا آپ ﷺ کی تخلیق آپ ﷺ کی خواہش کے مطابق ہوئی۔