MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

مفتی کی جمعیت زندہ ہے

0 252

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر عبدالغنی شہزاد

- Advertisement -

جمعیت علماء اسلام پاکستان وہ واحد جماعت ہے جن کو پرایوں کے ساتھ اپنوں نے بھی زخم دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ، ہر دور میں جمعیت کے کندھوں پر بام عروج تک پہنچنے والے حضرات ہی نے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی دلخراش تاریخ رقم کی ہے ۔ جمعیت کے خلاف اندرونی سازشوں کا سلسلہ آج کا نہیں، جمعیت علماء اسلام کے قائد مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ علیہ کے دور میں بھی جمعیت کو کمزور ہونے کی سازشیں ہوتی رہیں ، جس طرح مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ علیہ نے مخالفین کی بجائے صرف اور صرف اپنے کاز کی جانب بڑی تندہی سے سفر جاری رکھا عین اسی طرح ان کے فرزند ارجمند قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمان نے بھی اپنے ہی کاز پر توجہ دے کر بہت کامیاب انداز میں جماعت کی دھاک پوری پاکستانی سیاست پر بٹھادی ، آج اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ حکومت کو حوصلہ کے ساتھ سہارا دینے والی شخصیت کانام مولانا فضل الرحمان ہے، تو بے جا نہ ہوگا، جس طرح مفتی صاحب نو ستاروں کے ساتھ قومی سیاست کے روح رواں تھے آج بعینہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان پاکستان کی سیاست کے محور اور مرکز ہیں۔ محترم قارئین آپ کو علم ہوگا کہ آج مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کے یوم وفات کی مناسبت سے جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے شعبہ اطلاعات کی جانب سے انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے سلسلے میں میڈیا کے تمام ذرائع میں اشاعت اہتمام کیا ہے ۔ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے امید ہے آپ حضرات مستفید ہوں گے۔ جیسا کہ
1857ء کی مسلح جدو جہدانگریز سامراج سے آزادی ہند کے بعد مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے اور آزادی ہند کی مسلح جد و جہد کے بجائے سیاسی جد وجہد جاری رکھنے کے لئے جملہ علماء ہند نے 1919ء میں جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی، چونکہ جمعیت علماء ہند مسلم لیگ کی تقسیم ہند کے فارمولے سے متفق نہیں تھی، اس لئے 1945ء میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی، جو انگریز سے آزادی کے ساتھ ساتھ مسلمانان ہند کے لئےالگ مملکت کے حصول کے لئے کوشش کر رہی تھی۔آخر کار 1947ء میں انگریز سے ہند کو آزادی ملی اور مسلمانان ہند کو پاکستان کی صورت میں الگ مملکت ملی۔1947ء کے قیام پاکستان سے لے کر آج تک جمعیت علماء اسلام ملکی سیاست میں ایک اہم اور سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے، اور ملکی سیاست میں اپنا مثبت کردار ادا کررہی ہے۔
1953ء کی تحریک ختم نبوت جو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر 1974ء میں منتج ہوئی، اسکی قیادت کا سہرا بھی جمعیت علماء اسلام کو جاتا ہے۔
1977ء میں تحریک نفاذ مصطفی حضرت مولانا مفتی محمودؒکی قیادت میں ہوئی، جس میں پاکستان کی ساری مذہبی اور سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔
پارلیمنٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں ساری جماعتوں کی طرف سے متفقہ اپوزیشن لیڈر حضرت مولانا مفتی محمودؒ تھے، جو 1970ء میں صوبہ سرحد کے وزیر اعلی بنے، جن کے دور وزارت میں صوبے میں اسلامی اور مشرقی روایات کو قائم کرنے کے لئے عملی کام کیا۔شراب پر پابندی لگائی۔ صوبے کی سرکاری زبان اردو کو قرار دیا۔سرکاری لباس اور سکول یونیفارم قمیض شلوار کو لازمی قرار دیا۔نصاب تعلیم میں عربی اور اسلامیات کو لازمی قرار دیا۔سود کی لعنت پر پابندی عائد کی۔اسی قسم کے اقدامات حسبہ بل کے نام پر مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی اٹھائے تھے ، بدقسمتی سے بیرونی قوتوں کی ایماء پر عدالت کے ذریعے اس بل کو کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ تاریخ
پر اگر نظر دوڑائیں مولانا مفتی محمود ؒکے بعد 1984ء سے مولانا فضل الرحمان مدظلہ کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام تاحال اپنا کردار اداء کر رہی ہے۔
جس کی وجہ سے 1988ء سے آج تک پاکستان کی پارلیمنٹ میں اپنا جمہوری، آئینی، پارلیمانی کردار ادا کر رہی ہے۔
1988ء سے آج تک جمعیت علماء اسلام پاکستان کی سیاسی منظر پر سب سے بڑی سیاسی، مذہبی جماعت ہے۔ان کے اغراض ومقاصد کچھ یوں ہیں کہ۔. مملکت پاکستان کی عوام کے ایمان اور عقیدے کا تحفظ۔
۔ مسلمانوں کی منتشر قوت کو جمع کر کے علماء کرام کی رہنمائی میں اقامت دین اور اشاعت اسلام کے لئے پر امن جد و جہد کرنا۔ شعائر اسلام اور مرکز اسلام یعنی حرمین شریفین کا تحفظ، پاکستان میں موجود مختلف اسلامی اداروں بشمول دینی مدارس، مسجد، دار الیتامی، مکتبات کی حفاظت کرنا۔
قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں میں سیاسی، اقتصادی، معاشی، اور مذہبی اور ملکی انتظامات میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا، اور اس کے مطابق مثبت عملی جد و جہد کرنا۔ پاکستان میں اسلامی عادلانہ نظام حکومت کے نفاذ کے لئے کوشش کرنا۔ پاکستان میں جامع و عالمگیر نظام تعلیم کی ترویج و ترقی کے لئے کوشش کرنا، جو پاکستانی عوام کے ایمان اور عقیدے کے موافق ہو، دینی اقدار اور اسلامی نظام کا تحفظ کرنا۔پاکستان کے موجودہ آئین کو تحفظ دینا، اور خلاف اسلام قوانین کو اسلام کے موافق کرنا، اور کسی بھی غیر اسلامی قانون سازی کو بننے کے راستے میں رکاوٹ بننا۔ پاکستان کی حدود میں تقریر و تحریر و دیگر آئینی ذرائع سے باطل فتنوں کی فتنہ انگیزی، مخرب اخلاق اور خلاف اسلام کاموں کی روک تھام کرنا۔ مسلمانان عالم خصوصا پڑوسی اور قریبی اسلامی ممالک کے ساتھ مستحکم اور برادرانہ روابط استوار کرنا۔ تمام دنیا کے ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ تعقات قائم کرنا۔ اگر دیکھا جائے موجود جمعیت علماء اسلام بھی مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ علیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلامی دفعات ، ختم نبوت ، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اسی موقف پر قائم ہے جو مفتی صاحب کے دور میں تھا۔بلاشبہ مفتی کی جمعیت زندہ بلکہ آب و تاب کے ساتھ ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.