پاک فوج کے خلاف پروپگنڈہ
تحریر, کنول زہرا
پاک فوج شہداءاور غازیوں کی فوج ہے اور جب کوئی پاک فوج پر بے جا تنقید کرتا ہے یا فوجیوں کو اکسانے کی باتیں کرتا ہے تو شہیدوں اور غازیوں کی یہ فوج اور اس سے وابستہ افراد کو لا محالہ طور پر تکلیف پہنچتی ہے اور ملک کا آئین بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ فوج کے خلاف بغاوت برپا کی جائے یا افسران کے خلاف اکسایا جائے۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ ریاست کا کوئی شہری عدلیہ اور پاک فوج کی تضحیک نہیں کر سکتا، انھیں مذاق کا نشانہ نہیں بنا سکتا۔آئین کے آرٹیکل 243، 244اور 245 کی رو سے ملکی اداروں سمیت افواج پاکستان کے خلاف بات کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان پینل کوڈ 1860ءاور کوڈ آف کرمنل پروسیجر1898ءمیں ترمیم کے بعد کرمنل لاء(ترمیمی) ایکٹ بل 2020ءکے مطابق کوئی بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے تو اس جرم کے تحت ایسے شخص کو دو سال تک قید کی سزایاپانچ لاکھ روپے جرمانہ یادونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں کو اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح پارلیمنٹ ایک ادارہ ہے جس کی بالادستی مسلم ہے اسی طرح پاک فوج بھی ملک کا اہم ادارہ ہے جس کی عزت اور وقار ایک مسلمہ چیز ہے جس پر کوئی دوسری رائے نہیں قائم کی جا سکتی۔ لیکن بد قسمتی سے سیاست دان اس اہم نکتے کو سمجھنا نہیں چاہتے ہیں, عوام کی زمے داری ہے کہ اس قسم کے پروپگنڈے کو ناکام بناکر ملک دشمن عناصر کی تدبیر الٹی کردے.
دوسری جانب ایک عرصے سے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے, پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں وفاقی اور صوبائی قوانین اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے قائم کی گئیں, یہ غلط فہمی پیدا کی گئی ہے کہ ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی پاکستان آرمی کے لئے مفت ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ
ڈی ایچ اے کی جائیداد آرمی آفیسرز کے لیے مفت نہیں ہے بلکہ سروس کے دوران کسی بھی قسم کی بچت یا کمیوٹیشن کو مکان/فلیٹ کی ادائیگی کے لیے ملایا جاتا ہے,
ڈی ایچ اے پلاٹ صرف افواج پاکستان کے شہدا کے خاندانوں کے لیے مفت ہیں۔ تمام سابق اور حاضر سروس فوجیوں کو ڈیو اور سروس چارجز ادا کرنے ہوتے ہیں.
ڈی ایچ اے کے پلاٹس
آفیسرز کو 0.13% ملتے ہیں ، جسکی تقسیم درج ذیل ہے:-
۱- جے سی او/سپاہی/شہدا/جنگی زخمی فوجیوں کو
– 72.8% –
تک کی چھوٹ ملتی ہے, ڈی ایچ اے کو ڈیفنس یا نیشنل بجٹ سے کوئی فنڈنگ نہیں ہوتی۔لہذا تمام شہری سہولیات، ڈی ایچ اے کی سیکیورٹی اور دیکھ بھال کا انتظام، پلاٹ فروخت ہونے، ڈویلپمنٹ چارجز اور سروس چارجز سے جمع ہونے والی آمدنی کے ذریعے کیا جاتا ہے, اس لئے شہریوں کو یہ سب مہنگا لگتا ہے, ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی پر آرمی کی اجارہ داری نہیں ہے بلکہ یہاں
97% پلاٹس اور مکانات سولین کے ہیں،یہاں تک کہ ڈی ایچ اے میں 80 فیصد سول ملازمین کام کر رہے ہیں,محض افواج پاکستان پر تنقید برائے تنقید مناسب اقدام نہیں ہے, حکومت کے دیگر ادارے بھی اپنے ملازمین کے لیے مختلف ہاؤسنگ اور فلاحی اسکیمیں چلا رہے ہیں۔ ان میں نیشنل پولیس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے جس کی دو ہاؤسنگ اسکیمیں راولپنڈی اور اسلام آباد میں ہیں ۔ انٹیلیجنس بیورو یعنی آئی بی گلبرگ گرینز چلا رہا ہے، عدلیہ چار شہروں میں جوڈیشل ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی چلا رہی ہے، پاکستان ریلوے ریلوے ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی چلا رہی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی مختلف فوجیں سابق فوجیوں کے لیے فائدہ مند ہاؤسنگ/پلاٹ اسکیمیں بھی چلاتی ہیں۔ ان اسکیموں میں ڈی ایچ اے آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا میں ویٹرن ہاؤسنگ کالونیاں، بھارت میں آرمی آفیسرز ویلفیئر ہاؤسنگ انڈین آرمی، بنگلہ دیش آرمی کی جلشری بھاشن ہاؤسنگ اسکیم اور ملائشیا میں آرمی ملازمین کے لیے ہاؤسنگ یونٹس شامل ہیں, ہمارے یہاں تنقید کرنے والے کے پاس معلومات کا فقدان ہے, ہم تحقیق سے جی چورا کر صرف تنقید کرنے کو قابلیت سمجھتے ہیں, بہتر ہے کہ دشمن کے آلہ کار بنے کے بجائے ریسرچ کریں اور دشمن کے منظم مقاصد کو پاش پاش کریں