ساجد ترین کون ہیں ؟
شکور بلوچ
ساجد ترین ایڈوکیٹ بلوچستان کا قابلِ فخر فرزند ہے جس نے پوری زندگی بلوچستان کے سیاسی و قانونی جنگ لڑنے میں گزاری ہے۔
- Advertisement -
اسکی سیاسی زندگی قربانیوں سے بھری پڑی ہے، زمانہ طالبعلمی میں وہ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں شھید حمید بلوچ کے ہمراہ مچھ جیل میں قید تھے۔
جبکہ ضیاء الحق کے بعد جب دوسرا فوجی آمر جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اسکے دور میں بھی ساجد ترین کو بطور بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائم مقام صدر گرفتار کرلیا گیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے ہر ہمیشہ نظریاتی و مزاحمتی سیاست کی ہے چاہے نام نہاد جمہوری حکومت ہو یا ڈکٹیٹرشپ۔
سیاست کے علاؤہ بطور ایک وکیل بھی اسکے بلوچ قوم اور بلوچستان کیلئے قربانیاں لازوال ہے بلوچ سیاست و سماج سے جڑے حساس ترین معاملات پر جتنے مقدمات ساجد ترین صاحب نے اپنے وطن کے قانونی جنگ کے طور پر لڑی ہے شائد تاریخ میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسی بھی وکیل نے نہیں لڑی ہوگی۔
بلوچ سیاسی رہنماؤں پر مقدمات ہو لاپتہ افراد یا انکے مسخ شدہ لاشیں ہر وقت ایک شخص نے تمام تر خطرات مول لیکر انکا قانونی جنگ لڑا ہے وہ ساجد ترین ہے۔
سوشل میڈیا پر بلوچستان کے نام پر جدوجہد کے دعوے دار تو بہت ہے لیکن عملاً جدوجہد کرنے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے ساجد ترین ان عملی جہدکاروں میں سے ایک ہے.
عظیم بلوچ رہنماء سردار خیر بخش مری کا کیس جب پورے بلوچستان سے کوئی بھی لڑنے کو تیار نہیں تھا تو ترین صاحب ہی بابا کے وکیل بنے تھے بعد میں جب شھید میر بالاچ خان مری صوبائی اسمبلی کا ممبر تھا تو سینیٹ الیکشن کے موقع پر اس نےکہا تھا کہ اگر ساجد ترین امیدوار ہوا تو میں اسے ووٹ دونگا۔
اگر وہ امیدوار نہیں تو میں اور کسی کو بھی ووٹ نہیں دونگا۔ اس نے ساجد ترین کے ساتھ ووٹ دینے کا کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا دراصل بالاچ خان اس الیکشن پروسیس کا حصہ ہی نہیں بننا چاہتے تھے لیکن ساجد ترین کو ووٹ دینے کا اس لیئے کہا تھا کہ وہ اس وفا اور سنگتی کو نبھانا چاہتے تھے۔
ساجد ترین نے 2012 میں پاکستان کے سپریم کورٹ اور 2014 میں بلوچستان ہائی کورٹ میں بلوچ لاپتہ افراد کا کیس لڑا جب اس معاملے پر کھل کر بات کرنا بھی موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
اور پھر حال ہی میں گوادر کو جب سرکار باڑ لگا کر جیل میں تبدیل کر رہے تھے تو ساجد ترین ہی نے یہ گھناؤنا عمل عدالت میں چیلنج کیا اور ان کے درخواست پہ گوادر کو باڑ لگانے کا کام روک دیا گیا۔
ایک سیاسی رہنماء کی طرح بطور قانون دان بھی اسکے جدوجہد و خدمات کی فہرست بہت طویل بلکہ نا قابل بیان ہے۔
کل سے ایک مخصوص لابی کی جانب سے اسکے خلاف ایک جھوٹی خبر کے ذریعے منظم پروپگنڈا مہم چلائی جارہی ہے۔ جس عظیم انسان نے پوری زندگی بلوچستان کیلئے بے شمار مشکلات، مصائب و تکالیف کاٹ کر جدوجہد میں گزاری ہو بے اسکے خلاف ایسے پروپگنڈے انتہائی شرمناک حرکت ہے۔