صدر عارف علوی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے مایوس ہو چکے
اسلام آباد (مسائل نیوز) پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں لیکن ان کی نیت صاف دکھائی نہیں دے رہی۔عارف علوی نے کوشش کی لیکن اب وہ بھی مایوس ہو چکے ہیں۔انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لیے پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کر رہے ہیں۔
عمران خان پارٹی رہنماؤں سے کافی تیزی سے مشاورت کر رہے ہیں۔ہم بالکل کلئیر ہیں کہ ان کے پاس کوئی پلان نہیں۔شاہ محمود نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل سنجیدہ نہیں ہیں، گفت شنید سے کوئی انکار نہیں کرتا لیکن ان کی نیت صاف دکھائی ہی نہیں دے رہی۔عارف علوی نے کوشش کی لیکن اب وہ بھی ان سے مایوس ہوچکے۔
نوازشریف کی واپسی سے متعلق کہا کہ جب تک پورا بندوبست نہیں ہوگا نوازشریف واپس نہیں آئیں گے۔
- Advertisement -
سابق وزیر نے کہا کہ ان 8 مہینوں میں لوگوں نے معیشت کی حالت دیکھی ہے۔ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں۔یہ اپنے ختم کرنے کے لیے اقتدار کو گھسیٹ رہے ہیں۔طویل گفت و شنید کے بعد مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا۔آج اس معاہدے کو اسحاق ڈار اون نہیں کر پا رہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم 20 دسمبر تک عام انتخابات کا فارمولا نہیں لاتی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔
فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے اکابرین الیکشن نہیں چاہتے تاہم ملک کیسے چلانا ہے کوئی پتہ نہیں، صرف وزیر بنانا اور بیرونی دورے کرنے سے ملک نہیں چلتے یہ ایک پیچیدہ اور مشکل کام ہے جس کی اہلیت ان حکمرانوں میں نہیں ، پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور یہ مستحکم حکومت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم 20 دسمبر تک عام انتخابات کا فارمولا نہیں لاتی تو پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔