پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے اعظم سواتی کو صحت مند قرار دے دیا
اسلام آباد (مسائل نیوز)پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے اعظم سواتی کو صحت مند قرار دے دیا ، اعظم سواتی کا بلڈپریشر،دل کی دھڑکن نارمل اور ایکسرے بالکل ٹھیک ہے،اعظم سواتی دل کی ادویات استعمال کرسکتے ہیں۔جیو نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء سینیٹر اعظم سواتی کا پمز ہسپتال میں طبی معائنہ مکمل کرلیا گیا ہے، میڈیکل رپورٹ میں پمز ہسپتال کے میڈیکل بورڈ نے اعظم سواتی کو صحت مند قرار دے دیا ہے، اعظم سواتی ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند ہیں،طبی معائنے کے دوران اعظم کا بلڈ پریشر اور دھڑکن بالکل نارمل تھی، اعظم سواتی اپنے دل کی ادویات استعمال کرتے رہیں۔
اعظم سواتی کا ایکسرے بھی بالکل ٹھیک ہے۔ اعظم سواتی 2016میں امراض قلب کی وجہ سے ہسپتال میں داخل رہے، اعظم سواتی کے تین اسٹنٹ لگے ہوئے ہیں،اعظم سواتی دل کے مرض کی ادویات باقاعدہ استعمال کرتے ہیں، اعظم سواتی کا الٹراساؤنڈ بھی بالکل ٹھیک آیا ہے۔
یاد رہے اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔
- Advertisement -
سابق وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کو گزشتہ روز رات ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔ سینیٹر اعظم سواتی کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے سینئر سول جج شبیر بھٹی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان، سردار مصروف خان اور فیصر جدون عدالت میں پیش ہوئے۔سابق وفاقی وزیر کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ صرف سیاسی بنیادوں پر اعظم سواتی کو گرفتار کیا گیا ہے، اعظم سواتی پر رات گئے بدترین تشدد کیا گیا۔
دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ اعظم سواتی کو گزشتہ رات ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے گرفتار کیا، ایف آئی اے کی جانب سے اعظم سواتی کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے سابق وفاقی وزیر کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ، عدالت نے فوری طور پر اعظم سواتی کا پمز اسپتال میں میڈیکل کرانے کا بھی حکم دیا۔
عدالتی احکامات کے بعد ایف آئی اے حکام سینیٹر اعظم سواتی کو لے کر پمز ہسپتال میں روانہ ہوئے۔بعد ازاں، عدالت نے اپنا محفوظ فیصلہ سنایا جس کے مطابق اعظم سواتی کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم اعظم سواتی کا میڈیکل کرا کر پیش کرنے کا حکم دیا۔ نیوزایجنسی کے مطابق پی ٹی آئی رہنما سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، مقدمہ ایف آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ کی مدعیت میں انسداد الیکٹرنک کرائم ایکٹ 216 کی دفعات کے تحت 13 اکتوبر کی رات ایک بجے درج کیا گیا۔
سابق وفاقی وزیر کے خلاف مقدمہ پیکا 216 کی دفعہ 20، 131، 500، 505، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ کے متن کے مطابق اعظم سواتی نے بدنیتی پر مبنی اور غلط مقاصد کی تکمیل کے لیے انتہائی تضحیک آمیز ٹوئٹ کیا، اعظم سواتی نے ریاست پاکستان، ریاستی اداروں اور چیف آف آرمی اسٹاف کو براہ راست نشانہ بنایا۔ مقدمے کے مطابق ایف آئی اے کے مقدمہ میں اعظم سواتی کے متنازع ٹوئٹ کا متن بھی شامل کیا گیا ہے، متن کے مطابق اعظم سواتی کا ٹوئٹر بیان افواج پاکستان میں تقسیم پھیلانے کی گھناؤنی سازش ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے ملکی عدالتوں کو نشانہ بنایا، اعظم سواتی نے غلط معلومات پھیلا کر عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔