افغانستان میں بینک کا نظام اس وقت مکمل طور پر بند ہے،رحیم آغا
کوئٹہ(جی این ایم)انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کے صدر رحیم آغا ،عمران ترین ،حاجی نصرالدین کاکڑ ، حاجی یعقوب شاہ کاکڑ ، میر رحیم بنگلزئی، حیدر آغا، محمد حسین، محمد جان آغا درویش، ولی افغان، حاجی ظہور کاکڑ، اسلم اچکزئی، خان کاکڑ، نعمت ترین ،امردین آغا، بسم اللہ ترین ، حاجی شفیع آغا ، حاجی قیوم خلجی،
- Advertisement -
امردین آغا،حاجی، حاجی حسن خلجی، منظور ترین، فیض محمد داوی ، محمد طاہر جدون، غنی آغا اور دیگر عہدیداران نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تجارت ڈالر کے ذریعے کرنے پر تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کہا ہے کہ افغانستان میں بنک کا نظا اس وقت مکمل طور پر بند ہے اور حکومت کی جانب سے ای فارم نہ ہونے کی وجہ سے اس وقت افغانستان کیلئے ایکسپورٹ بالکل بند ہے جس سے تاجروں کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہورہا ہے
اور اس وقت ملک میں چمن باڈر سمیت طورخم باڈر ، غلام خان باڈر ، انگور اڈہ پر بھی یہی صورتحال ہے اور جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارت بند ہوگئی ہیں اور ہر باڈر پر سینکڑوں کی تعداد میں ٹرک لوڈ کڑے ہے اور کہا ہے کہ اس سے زیادہ تر نقصان پاکستان کے تاجروں کو ہورہا ہے بیان میں سٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزیر خزانہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں بینکنگ نظام کے فعال ہونے تک تاجروں کو پاکستانی کرنسی میں تجارت کرنے کی اجازت دی جائے۔