راولپنڈی(مسائل نیوز) پاکستان نژاد امریکی خاتون وجیہہ سواتی قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا،راولپنڈی کی عدالت نے وجیہہ سواتی کے سابق شوہر اور مرکزی ملزم رضوان حبیب کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وجیہہ سواتی قتل کیس کا فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل نے سنایا،مرکزی ملزم رضوان حبیب کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
مقتولہ کے سابق سسر ملزم حریت اللہ اور ملازم سلطان کو سات،سات قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی،ملزمان یوسف،زاہد اور رشید کو بری کر دیا گیا ہے۔ وجیہہ سواتی قتل کیس کا فیصلہ سنائے جانے کے وقت ملزمان اور امریکی ایف بی آئی ٹیم بھی موجود تھی۔
یاد رہے کہ مقتولہ سابق شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات سلجھانے کیلئے پاکستان آئی تھیں لیکن اس کے سابق شوہر رضوان حبیب نے انہیں جائیدادکی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں قتل کر دیا تھا،پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا کے الزام میں 2 نومبر2021 کو مغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں دفعات 365 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں الزام لگایا گیا کہ اس کی والدہ اپنے بھانجے کے ساتھ برطانیہ سے پاکستان آئی تھی۔
- Advertisement -
ایف آئی آرکے مطابق اس کی والدہ اپنے سابق شوہر رضوان حبیب سے جائیداد کے معاملات پر پاکستان آئی لیکن رضوان حبیب نے انہیں جائیداد کی لالچ میں اغوا کے بعد قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ گزشہ دنوں لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا اور قتل کے مقدمہ میں نامزدشریک ملزم و مقتولہ کے سسرکی درخواست ضمانت خارج کی۔عدالت نے قرار دیا کہ جب عدالت پہلے ہی رضوان حبیب کے ملازمین کی درخواست ضمانت خارج کر چکی تو ملزم کے والد کی ضمانت کیسے منظور کی جا سکتی ہے جبکہ قتل میں بیٹے کی معاونت میں والد کا کردار ملازمین سے زیادہ ہے۔
مرکزی ملزم رضوان حبیب کے والد حریت اللہ بنگش کی درخواست ضمانت کی سماعت کے موقع پر مقتولہ کے وکیل عدیل احمد اور ملزمان کے وکیل طلعت محمود زیدی نے درخواست ضمانت پر دلائل دیئے تھے۔