عبادات میں آگے معاملات میں پیچھے ہمارا اجتماعی المیہ
تحریر صحافی اسد بلوچ
- Advertisement -
حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر شمار ہوتا ہے، مگر اگر ایمانداری کی عالمی فہرست دیکھی جائے تو ہم تقریباً آخری درجوں میں کھڑے نظر آتے ہیں یہ تضاد صرف اعداد و شمار کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی کردار کا آئینہ دار ہے عبادات میں ہم آگے مگر معاملات میں پیچھے زبان پر دین مگر عمل میں کمزوری یہی وہ المیہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے وہ میٹر ریڈر جو 500 یونٹ کو 1500 یونٹ لکھ دیتا ہے صرف ایک عدد نہیں بڑھاتا بلکہ کسی غریب کے چولہے کی آگ بجھا دیتا ہے وہ قصائی جو خالص گوشت کی قیمت وصول کر کے ہڈیاں تول دیتا ہے وہ دودھ فروش جو خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی اور پاؤڈر ملا کر بیچتا ہے یہ سب صرف دھوکہ نہیں دیتے بلکہ اعتماد کا خون کرتے ہیں۔ وہ دکاندار جو تول میں کمی کر کے پورے پیسے وصول کرتا ہے یا دس روپے کی خریداری میں ایک روپیہ غائب کر دیتا ہے شاید سمجھتا ہو اس کی چالاکی کسی کو نظر نہیں آتی، مگر یہی چھوٹی بددیانتی معاشرے میں بڑی خرابیوں کی بنیاد بنتی ہے۔ وہ ایس ایچ او جو بے