جنرل باجوہ کی توسیع سے متعلق کیپٹن صفدر کی بات سے متفق نہیں
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ ہمیں جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی توسیع کیلئے بل پر ووٹ نہیں دینا چاہیے تھا۔ ملک احمد خان نے جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی بات سے اتفاق نہیں کرتا۔
جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی توسیع کیلئے بل پر ووٹ دینا درست تھا،ووٹ نہ دیتے تو سیاسی تقسیم ہو جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے الیکشن ایک ساتھ ہوں گے۔ یاد رہے کہ سینئر نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو بےعزت کر دیا۔
جس دن ہم نے قمر جاوید باجوہ کو ایکسٹینشن کا ووٹ دیا اس دن ہمارا ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ دفن ہو گیا۔ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ اب ہم نے دفن کر دیا۔ پرویز رشید کے علاوہ جس نے بھی جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کو ووٹ دیا وہ مجرم ہے۔ میاں صاحب کو بھی ایکسٹینشن کے ووٹ کا نہیں کہنا چاہئے تھا۔ نوازشریف وہی شخص تھا جنہوں نے ان کو للکارا تھا۔
میاں صاحب کو ورغلایا گیا،ان سے جھوٹ بولتے تھے۔میں ان کے نام بھی لوں گا جنہوں نے نوازشریف سے فراڈ کیا،ورغلانے والی وہی ٹیم ہے جو میاں صاحب کے گھٹنے پکڑتے تھے۔ یہی لوگ آ کر بتاتے تھے کہ اس طرح کر لیں تو اس طرح ہو جائے گا۔جو بھی ہے نوازشریف کوبتانا چاہیے کس نے غلط فیصلہ کرایا۔ 28 نومبر سے پہلے حکومت جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے نیچے دبی ہوئی تھی۔صفدر اعوان نے مزید کہا کہ یہ کوئی بات ہے کہ آپ لیڈر کے آگے کھڑے ہی نہیں ہو سکتے ہیں،یہ تو سارے لالچی ہیں، ٹکٹ مل جائے، چاپلوسی کر لیں گے۔آپ نظریات کو تحفظ نہیں کر سکتے تو ایسے ایم این اے کو کیا کرنا؟خواہشوں کے پیچھے بھاگتا تو کسی بڑے عہدے پر ہوتا،مفتاح اسماعیل کا دل نہ دکھے اس لیے میں نے یوتھ ونگ سے استعفٰی دے دیا۔