MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینگے، وزیراعلیٰ بلوچستان

1 300

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

دالبندین (ویب ڈیسک ) بلوچستان کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ روز ضلع چاغی کے سینیر تجزیہ کار آغا علی دوست اور سینیر نمائندوں سے خوشگوار موڈ میں حال احوال کرتے ہوے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنا میرا نصب العین ہے سیاست عوام کی خدمت کے لئے کررہے ہیں ریکوڈک سے بلوچستان کے عوام کے لئے اتنا شیر اور حصہ لیں گے

کہ کسی نے سوچا تک نہیں ہوگا انشاءاللہ پیچھے نہیں ہٹیں گے بلوچستان کے عوام کے لئے آگے بڑھنا ہوگا بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے ذاتی دلچسپی لے رہا ہوں بی اینڈ آر سے نکالے گئے ملازمین کو بحال کیا گلوبل ایجوکیشن کے ٹیچرز کو ریگولر اور مستقل کیا انشاءاللہ بے روزگاری کے خاتمے کےلئے اپنی کوشش جاری رکھیں گے صحت تعلیم اور دیگر تمام شعبوں میں اقدامات کئے جارہے ہیں غریب لوگ جو روزگار کررہے ہیں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غریب لوگوں کو تنگ کریں

اور ان سے بھتہ لیں اور ان کے روزگار پر ڈاکہ ڈالے اس پر میں سخت کارواءکروں گا جس علاقے میں بھتہ خوری کی ویڈیو چل گءتو اس علاقے کا کمشنر اور ڈی سی اپنے کو فارغ سمجھے مجھے غریب عوام کے حقوق زیادہ عزیز ہیں کیونکہ طاقت کا اصل سرچشمہ ہہی غریب لوگ ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی تبدیلی کی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے اقدامات کئے جائیں گے۔

- Advertisement -

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر برائے پاکستان مسٹر جیولین ہارنیز (Mr Julien Harneis)کی قیادت میں ملنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بشریٰ رند اور صوبائی سیکرٹری ماحولیات عبدا لصبور کاکڑ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ملاقات میں بلوچستان کے انڈس بیسن پر واقع جعفر آباد، نصیر آباد، صحبت پور اور جھل مگسی اضلاع میں نکاسی آب کے نظام کی کمزوری سے ماحولیات اور ایکو سسٹم کو پہنچنے والے نقصانات کو کم سے کم سطح پر لانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ نے آگاہ کیا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور ایکو سسٹم کی بحالی کے منصوبوں کیلئے ماسٹر پلاننگ کررہا ہے جس میں بلوچستان کے چار اضلاع بھی شامل ہیں چار ماہ کی مدت میں ماسٹر پلاننگ مکمل کرکے اس حوالے سے منصوبے تجویز کئے جائیں گے۔ ان میں نہری نظام کی بہتری کا میکنزم بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ان اضلاع میں ماحولیاتی خطرات کے باعث زرعی پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے جبکہ انسانی صحت اور بقاءکو بھی خطرات لاحق ہیں۔

ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیاگیا کہ گلوبل وارمنگ کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ ہونے سے گلیشئر پگھل رہے ہیں جس سے آنے والے وقتوں میں دنیا بھر کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا اس خطرہ سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے کہ دستیاب آبی وسائل کے استعمال کی بہتر مینجمنٹ کی جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کے اداروں کی معاونت سے مختلف شعبوں میں کام ہورہا ہے اور سندھ کے ساتھ انڈس بیسن کا منصوبہ بھی اہمیت کا حامل ہے جس کیلئے ہم مکمل معاونت فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اضلاع کے تمام منتخب عوامی نمائندوں کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی سے ہے جو پہلے ہی سے اپنے اضلاع کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے پہلے بھی کئی منصوبے زیر غور رہے ہیں تاہم ان پر صحیح طور پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔وزیراعظم پاکستان ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کررہے ہیں۔ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی ماسٹر پلاننگ بلوچستان اور پاکستان کے مستقبل کیلئے ضروری ہے۔اس موقع پر سول سوسائٹی، صوبائی اسمبلی اور بیوروکریسی سے ماسٹر پلاننگ کیلئے فوکل پرسن نامزد کرنے کا فیصلہ بھی کیاگیا۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.