بلوچستان میں ابتر تعلیمی صورتحال کے باعث نوجوانوں کو ترقی کے مواقع میسر نہیں، پی پی وومن ونگ
کوئٹہ (مسائل نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی وومن ونگ بلوچستان کی سیکرٹری اطلاعات کرن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم کی صورتحال انتہائی دگرگوں ہے، صوبے میں نوجوانوں کو ترقی کے مواقع ہی میسر نہیں،کئی بچے غربت کے باعث کم عمری میں ہی اپنے گھرانوں کے معاشی بوجھ تلے دب کر تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اب بھی 12 لاکھ سے زائد بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہیں اور ان میں سے 5 سے 15 سال تک کے زیادہ تر بچے اپنے گھرانوں کی معاشی ضروریات کے لئے کچرہ چننے، مکینک شاپس اور دیگر مزدوری کےکام کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کی ضرورت ہے ، پرائمری سطح پر اصلاحات کی جائیں ، نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی ، پولی ٹیکنک کالجز سمیت دیگر دور جدید کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں تاکہ نسل نو کو روزگار کے ساتھ ہی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں بھی کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے، اساتذہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ طلباءکے اخلاقی گراف ، کردار اور شخصیت سازی کو بہتر سے بہتر بنانے کےلئے کام کریں۔
- Advertisement -