صحرائے تھل تاریخ کے آئینے میں
تحریر: راجہ نورالہی عاطف
چشمہ( ضلع میانوالی) کے مقام سے دریائے سندھ کے بائیں جانب عظیم صحرائے تھل شروع ہوتا ہے جو میانوالی، بھکر، خوشاب، جھنگ، لیہ اور مظفر گڑھ کے اضلاع پر مکمل یا جزوی طور پر مشتمل ہے جبکہ جنوب کی طرف آگے چل کر صحرائے چولستان اور سندھ کا صحراءے تھرواقع ہے ۔ دریائے سندھ کے دونوں طرف پھیلے ہوئے دامان اور تھل پاکستان کے غیر بارشی منطقے میں واقع ہیں کیوں کہ مون سون کے باراں بداماں ہوائیں یہاں تک پہنچتے پہنچتے ہی داماں ہو چکی ہوتی ہیں ۔ تھل اور دامان میں درختوں کی کمی اور شدید گرمی کے سبب بادل خشک ہو جاتے ہیں اور لوگ ہمیشہ بارش کی بوند بوند کو ترستے رہتے ہیں چنانچہ بارش ،نہری پانی اور درختوں کی کمی کے باعث یہ علاقے پاکستان کے خشک اور گرم ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں کالی اندھیاں ریت کے ٹیلوں کے ٹیلے ایک سے دوسری جگہ منتقل کر دیتی ہیں جبکہ سردیوں میں موسم شدید ہوتا ہے۔ جسٹس ایم آر کیانی کا یہ قول علاقہ تھل کے حوالے سے بہت مشہور ہے کہ بھکر(تھل) میں آندھیاں نہیں صرف ایک آندھی چلتی ہے جو ستمبر میں شروع اور اپریل میں ختم ہوتی ہے ۔ وسیع و عریض علاقہ تھل لاکھوں ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔ اس ریگستانی علاقہ کو” تھل “کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تھل کی خاصیت و اہمیت کا شہرہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں موسم گرما میں تندوتیز کالی نیلی دہشتناک آندھیاں عجیب و غریب نظارہ پیش کرنے کے لئے اس علاقہ کو اپنی آماجگاہ بنائے رکھتی ہیں جبکہ تھل کے ٹیلوں پر لہلہاتی سرسبز و شاداب فصلیں فطرت کا دلکش منظر پیش کرتی ہیں۔ یہاں کی فصلوں میں چنا، گندم خاص اہمیت کی حامل ہیں خصوصا” چنا (فصل نخود) بہت اہمیت کی حامل ہے/ جس کی برآمد سے ہمارا پیارا وطن کثیر زرمبادلہ کما کر اپنے ترقیاتی پروگراموں کی تکمیل کرتا ہے۔ علاوہ ازیں گندم اور فصل خریف میں تربوز، سرسوں، تارا میرا ،گوارا ،جوار اور باجرہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعد اس وقت کی حکومت نے پسماندہ ترین علاقہ تھل کی تعمیروترقی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ تھل کی آبادکاری اور علاقہ کو گل و گلزار بنانے کے لیے تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ٹی ڈی اے )کے نام سے منسوب ایک ادارہ قائم کیا ۔ اس ادارہ کو تھل کے صحرائی علاقہ جات کا تقریبا پچاس لاکھ ایکڑ رقبہ کی آبادکاری کا فریضہ سونپا گیا۔ ترقیاتی پروگراموں میں علاقہ میں نہروں، سڑکوں کا جال بچھانے کے ساتھ ساتھ نئے قصبوں اور چکوک کی آبادکاری اور باشندگان تھل کے لیے زندگی کی بنیادی
- Advertisement -

سہولتوں کی فراہمی شامل تھی ۔ تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام شروع شروع میں تھل کے علاقے میں ایک نہر تھل پراجیکٹ جناح بیراج( کالاباغ) سے لیہ تک تعمیر کی گئی جس نے شروع میں دریائے سندھ سےچودہ پندرہ میل مشرق میں شمالا” جنوبا” پھیلے ہوئے کچھ علاقے کو سیراب و آباد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اپنے قیام کے ساتھ ہی تھل میں تیزی سے ترقیاتی کام شروع کیے چنانچہ اس اتھارٹی کے زیرانتظام اضلاع میانوالی ،خوشاب ، لیہ اور مظفرگڑھ میں ٹی ڈی اے کے نام سے منسوب چکوک آباد کیے گئے۔ تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر احسن نے 1950ء میں علاقہ کلورکوٹ ضلع بھکر میں ایشیا کے سب سے بڑے سرکاری باغ کے لئے تقریبا 500 ایکڑ رقبہ ریزرو کیا اور اسی سال پودے لگا کر باغ کا افتتاح کیا اور اس باغ کا نام” فریدہ باغ” رکھا گیا۔ برسبیل تذکرہ تھل کی آباد کاری میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی قابل صد ستائش ہے یہ پروگرام جاری تھا کہ غالبا” 1969ء میں تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو معطل کردیا گیا ۔ اہلیان علاقہ تھل کا خیال ہے کہ اگر تھل ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیسا آج بھی کوئی ادارہ تھل کی تعمیر و ترقی اور یہاں کے عوام کی خوشحالی کے لیے قائم کردیا جائے تو یہ علاقہ تیزی سے شاہراہ ءترقی پر گامزن ہوسکتا ہے ۔ یہاں کے کسانوں کے مطابق کو اگر حکومتی سطح پر “تھل ایگریکلچرڈویلپمنٹ اتھارٹی” قائم کر دی جائے تو جہاں تھل کی ہزاروں ایکڑ سونا اگلنے والی قیمتی زرعی زمینوں کو سیم وتھور کی تباہ کاریوں سے محفوظ کیا جاسکتا ہے وہاں کاشتکار کی خوشحالی کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ جب صحرائے تھل سرسبزوشاداب ہوگا تو اس کے ثمرات سے وطن عزیزپاکستان مستفید ہوگا ۔سبز انقلاب لانے میں مدد ملے گی اور ترقی و خوشحالی کی منازل تیزی سے طے ہوں گی۔