MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

برف کا ٹکڑا  

0 335

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:صفیہ شیریں خان
شدید گرمی پڑ رہی تھی۔ پارہ 45 کو پہنچ چکا تھا۔ گرمی سے ہر بشر بلبلہ رہا تھا سکول سے آتے ہوئے حسن علی کا گلہ پیاس کی شدت سے سکھڑتا جارہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ اس میں سوئیاں چھبورہا ہو۔ گھر پہنچتے وہ مٹکے کی طرف لپکا۔ گلاس بھرا اور پہلا گھونٹ حلق میں اتارا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ابلتا ہوا تیل نما پانی منہ میں ڈال دیا ہو۔ منہ سے پانی پھینکتے ہوئے حسرت بھری نگاہوں سے مٹکے کو دیر تک تکتا رہا،ناچارہی اپنی جھونپڑی نما کمرے کی طرف بڑھا۔ ماں اس کی بیمار چارپائی پر لیٹی بے بسی کی تصویر بنی تھی۔ جس کو دیکھ ہی حسن کو اور دکھ ہونےلگا۔

حسن علی کے چار بہن بھائی بھی اس تڑپادینے والے گرمی کا شکار ہوئے کمرے کے کونے بیٹھے تھے۔ حسن علی نے جب اپنے بہن بھائیوں پر نظر ڈالی تو اسے کوفت ہونے لگی اور ساتھ ہی اس آگ برسنے والی گرمی کو کوسنے لگا۔ اسے اپنی بہن بھائیوں کے حالت پر ترس بھی آرہا تھا۔ 12 سالہ حسن علی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کرے کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا، گرمی اور پیاس کی وجہ سے اس کا برا حال تھا۔
چھٹی! جی بھیا۔ ساتھ والے بنگلے سے برف کا ایک ٹکڑا لے آتیں؟ تھوڑی گرمی ہی کم ہوجاتی۔ گئی تھی بھیا انہوں نے گیٹ ہی نہیں کھولا،خالہ راشدہ سے بھی مانگنے گئی تھی اس کے پاس بھی تھوڑی سی تھی۔ حسن کی چھوٹی بہن بھی گرمی کہ شدت سے بچنے کے لئے در،در جا دروازہ بجا چکی تھی مگر اسے بھی کہیں سے کچھ نہیں ملا۔ باجی بھی برف ڈھونڈنے گئی ہوئی ہوئیں ہین شاید وہی لے آئے۔ مجھے تو کہیں سے نہیں ملی! دروازہ کے پھاٹک کھولنے کی کی آواز نے سب کو اس طرف متوجہ کیا۔ فاطمہ تھکے ہوئے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی،سب کے نظریں اس کے ہاتھوں پر تھی۔

اس کے خالی ہاتھ سب کے امیدوں پر پانی پھیرنے کے لئے کافی تھے۔ خالی ہاتھ لوٹنے پر فاطمہ اور باقی سب کی امیدیں دم توڑتی جارہی تھیں اسے بھی کہیں سے برف نہیں ملی۔حسن کی طرح سب کا ایک جیسا حال تھا پر سب کو ضبط کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں تھا سو نہیں چھوڑا۔ پیاس کی شدت کو کم کرنے کئی بار مٹکے کا ابلتا پانی منہ میں ڈالا مگر حلق نے اترنے کی اجازت نہ دی مجبوراً پونی منہ سے پھینکنا پڑا۔ پانچوں بہن بھائی ایک دوسرے کی حالت کو شدت سے محسوس کررہے تھے مگر بے بسی اتنی کہ کچھ کربھی نہیں پارہے تھے۔۔ اچانک چھوٹی کی خوشی سے لبریز آواز نے سب کو اپنے اپنے سوچوں کے بھنور سے نکالنے پر مجبور کردیا۔
بھیا میں نے بھی ایک مہینے سے ایک روپیہ چھپا رکھا ہے۔ فاطمہ نے حسن کو روپیہ ہاتھ میں لیتے ہوئے دیکھا تو کہا، کیوں نہ یہ پیسے ملا کےچچا کرم دین سے ایک برف کا ٹکڑا لائیں؟ یہ سن کر سب کی آنکھوں امید کی نئی چمک جنم لینےلگی۔ ہاں یہ ٹھیک ہے حسن نے خوش ہوتے ہوئے فاطمہ کو دیکھا۔ فاطمہ نے پیسے بڑی احتیاط سے لے کر حسن کی جیب میں رکھے اور دونوں، بہن بھائیوں کو ضروری ہدایت دے کے برف لینے روانہ ہوئے۔ برف کا سوچتے ہی ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ ڈھائی میل کا فاصلہ وہ جلد سے جلد عبور کرنا چاہتا تھا،

- Advertisement -

مگر شدید گرمی کے باعث اور ریتیلی زمین پر دونوں کے لیے محال ہورہا تھا ۔ بھاگتے بھاگتے آخرکار چچا کرم دین کی فیکٹری تک خود کو پہنچاپائے۔ چچا برف دے دو، پھولتے ہوئے سانسوں کے ساتھ حسن نے چچا سے کہا۔ کرم دین چونکہ کنجوس مانا جاتا تھا دھوپ میں تپتے ہوئے ان کے چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے جو ان کے دھوپ میں جھلسنے کا صاف پتا دے رہی تھی ہوچھا۔ کتنی کی چاہیے؟ کرم دین نے اپنی بڑی سی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے حسن کے چہرے کا جائزہ لیا، تین روپے کی چچا۔ اس سے پہلے کہ حسن کچھ کہتا فاطمہ بول پڑی۔ ہاہاہاہاہاہا ۔۔۔

بے اختیار کرم دین کے منہ سے قہقہہ بلند ہوا، کتنی کی کرم دین نے پھر ہنستے ہوا کہا، تین روپے کی فاطمہ نے سہمے لہجے میں حسن کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اور بچہ! اتنے میں آج کل برف کہاں ملتی ہے؟ چچا ابھی دے دو بعد میں اور پیسے لادیں گے حسن نے التجائی نظروں سے کرم دین کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ نہیں ملتی جاؤ، کرم دین کرخت ہوتے ہوئے بولا۔ چچا جی تھوڑی سی دے دو، آپ کی تو اتنی بڑی فیکٹری ہے۔ فاطمہ چچا کی منتیں کرنے لگی جو حسن کو بالکل گوارا نہیں ہورہا تھا۔ حسن نے فاطمہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا چل چلتے ہیں،  تھوڑی سی تو دے دے گا نا رک تو سہی۔ فاطمہ تھوڑا اور منت کرنا چاہتی تھی۔ اسے امید تھی کہ چچا تھوڑی سی دے دیگا مگر حسن نہ مانا۔ گیٹ تک پہنچے ہی تھے کہ کرم دین بے حسن کےہاتھوں میں تھما دیا، دونوں کی آنکھوں خوشی کے تارے ٹمٹمانے لگے۔

جلدی سے حسن نے ہاتھ میں برف لیتے ہوئے چچا کا شکریہ ادا کیا فاطمہ اور حسن خوشی کے مارے جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتے تھے۔ حسن ایسا کر تم یہ برف میرے اس دوپٹے میں باندھ دے گرے گی نہیں، فاطمہ نے بڑی بہنوں جیسی نصیحت حسن کو کی۔ ہاں یہ تو نے ٹھیک کہا لا میں اس میں باندھ دیتا ہوں۔ فاطمہ نے دوپٹا حسن کو پکڑایا۔ حسن نے اس میں برف باندھی، اچھے باندھنا کہیں گر نہ جائے فاطمہ نے برف باندھتے ہوئے حسن کو دیکھ کر دل کے وسوسوں کو چھپاتے ہوئے کہا، ہاں اچھے سے باندھی ہے نہیں گرےگی حسن نے گرہ سخت کرتے ہوئے کہا،

دونوں بھاگتے ہوئے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ بھاگتے ہوئے انہیں یہ احساس تک نہ ہوا کہ حسن کے ناتواں ہاتھوں میں زندگی کو بچانے کےلیے جو گرہ لگائی تھی وہ آہستہ آہستہ کھلتی جارہی ہے، ساتھ ہی ساتھ حسن اور اس کے کھمبے سے بھیانک کھیل، کھیلنے کا سوچ رہی ہے۔  حسن اور فاطمہ خوشی کے مارے اپنی پیاس بجھانےکے دھن میں بھاگتے جارہے تھے۔ دھڑام  !!!!!!!
حسن !!! فاطمہ کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی! اور ساتھ میں آنکھوں سے آنسو بھی۔۔۔
حسن نے جب مڑ کر دیکھا برف کا ٹکڑا گندی نالی میں پڑا بے بس بچوں کی زندگی کے ساتھ کھیل کر گھلتی پھگلتی جارہی تھی۔ فاطمہ اور حسن دونوں پاگلوں کی طرح برف کو نکالنے کی کوشش کرتے رہے۔ مگر تقدیر نے جو سوچا وہ کرگزری۔ برف کا ٹکڑا نہ ملنا تھا نہ ملا!!!!
حسن اور فاطمہ بے بسی کے عالم میں ایک دوسرے کو تکتے ہوئے سانسوں کی دوڑ کو ہاتھ سے کٹی پتنگ کی طرح ٹوٹتے اندھیرے میں ڈوبتے جارہے تھے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.