والدین کی دعا کا اثر،تحریر:محمّد شہزاد بھٹی
اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ سمندر کے کنارے جائیں اور قدرت الٰہی کا تماشہ دیکھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے مصاحبین کے ساتھ تشریف لے گئے مگر انہیں کوئی ایسی شے نظر نہیں آئی۔ آپ نے ایک جن کو حکم دیا کہ سمندر میں غوطہ لگا کر اندر کی خبر لاؤ، جن نے غوطہ لگایا مگر کچھ نہ پایا اور واپس آ کر عرض کیا: اے اللہ کے نبی میں نے غوطہ لگایا مگر سمندر کی تہہ تک نہیں پہنچ سکا اور نہ ہی کوئی شے ملی نہ دیکھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اب ایک قوی جن کو غوطہ خوری کا حکم فرمایا مگر وہ بھی واپس آیا اگرچہ یہ پہلے جن سے دوگنی مسافت تک اندر گیا تھا۔ اب آپ نے اپنے وزیر آصف بن برخیا کو سمندر میں اترنے کا حکم دیا: انہوں نے تھوڑی دیر میں ایک سفید کا فوری قبہ لا کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر کیا جس میں چار دروازے تھے
ایک دروازہ موتی کا، دوسرا یاقوت کا، تیسرا ہیرے کا اور چوتھا زمرد کا چاروں دروازے کھلے ہونے کے باوجود اندر سمندر کے پانی کا ایک قطرہ بھی داخل نہیں ہوا تھا حالانکہ قبہ سمندر کی تہہ میں تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کے اندر ایک خوبصورت نوجوان صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے نماز میں مشغول ہے آپ قبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اس سے سلام کر کے دریافت فرمایا کہ اس سمندر کی تہہ میں تم کیسے پہنچ گئے اس نے جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام میرے ماں باپ معذور تھے اور میری ماں نابینا تھی میں نے ان دونوں کی ستر سال خدمت کی، میری ماں کا جب انتقال ہونے لگا تو اس نے یہ دعا کی: اے اللہ میرے فرزند کو عمر دراز عطا فرما۔ اس طرح جب میرے باپ کا وصال ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ میرے بیٹے کو ایسی جگہ عبادت میں لگا
- Advertisement -
جہاں شیطان کا دخل نہ ہو سکے، میں نے اپنے والد کو دفن کر کے جب اس ساحل پر آیا تو مجھے یہ قبہ نظر آیا اس کی خوبصورتی کا مشاہدہ کرنے کیلئے میں اس کے اندر چلا گیا اتنے میں ایک فرشتہ وارد ہوا اور اس نے قبہ کو سمندر کی تہہ میں اتار دیا، حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے دریافت کیا کہ تم کس زمانے میں یہاں آئے تھے نوجوان نے جواب دیا سیدنا ابرہیم علیہ السلام کے زمانے میں تو حضرت سلیمان علیہ السلام جان گئے کہ اسے دو ہزار سال ہو گئے ہیں مگر وہ بھی اب تک بلکل جوان ہے اور اس کے بال بھی سفید نہیں ہوئے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ تم وہاں کھاتے کیا ہو۔ نوجوان نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ایک سبز پرندہ روزانہ اپنی چونچ میں سر برابر کی ایک زرد چیز لے کر آتا ہے اسے کھا لیتا ہوں اور اس میں دنیا کی تمام نعمتوں کا لطف ہوتا ہے
اس سے میری بھوک بھی مٹ جاتی ہے اور پیاس بھی ختم ہو جاتی ہے اس کے علاوہ گرمی، سردی، نیند، سستی، غنودگی اور نامانوس و وحشت یہ تمام چیزیں مجھ سے دور رہتی ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: اب تم ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہتے ہو یا تمھیں تمھاری جگہ پہنچا دیا جائے تو نوجوان نے کہا کہ حضور مجھے میری ہی جگہ بھجوا دیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے حضرت آصف بن برخیاہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے قبہ اٹھا کر پھر سمندر کی تہہ میں پہنچا دیا اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے دیکھو والدین کی دعا کتنی مقبول ہوتی ہے لہذا ان کی نافرمانی سے بچو۔ اے اللہ ہمیں بھی اپنے والدین کی خدمت کر کے دعائیں لینے کی توفیق عطا فرما۔ آمین