MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھاگ کر شادی کرنے پر پابندی

0 165

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالم نگار:
محمد شہزاد بھٹی

- Advertisement -

اگر ہم بات کریں پنجاب میں بھاگ کر Love Marriage یا Court Marriage کرنے کی تو سوشل میڈیا پر یہ خبریں بڑی گردش کر رہی ہیں کہ پنجاب میں گھر سے بھاگ کر Love Marriage یا Court Marriage کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب میں نے حقیقت جاننے کی کوشش کی تو مجھے پتا چلا کہ ایسا کچھ نہیں ہے سوشل میڈیا پر گردش کرتی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں بلکہ یہ پابندی صرف ضلع راولپنڈی کی حدود تک محدود ہے اور وہاں کی لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی ایک خاتون ڈپٹی ڈائریکٹر نے اپنے ماتحت 182یونین کونسلز یا میونسپل کارپوریشنز کے سیکرٹریز کو مخاطب کرتے ہوئے ایک سرکلر جاری کر کے یہ پابندی لگائی ہے لہذا، اب ضلع راولپنڈی میں بھاگ کر شادی کرنے کی خواہش رکھنے والے ہو جائیں خبردار کیونکہ جاری سرکلر کے مطابق گھروں سے مبینہ طور پر بھاگ کر Love Marriage یا Court Marriage کرنے والوں کا نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں ہو گا۔ اس جاری سرکلر پر فوری عمل درآمد کا حکم بھی دے دیا گیا ہے، ساتھ یہ بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کاروائی بھی کی جائے گی اور سرکولر کے خلاف ورزی پر نکاح خواں کا لائسنس یا رجسٹر منسوخ اور مقدمہ درج کر کے گرفتاری بھی عمل میں لائی جائے گی، اس کے علاوہ سرکولر کے مطابق سیکرٹری یونین کونسل کو خلاف ورزی کرنے پر ملازمت سے برطرف کر کے مقدمہ بھی درج کیا جائے گا۔ یاد رہے، یہ ایک نہایت اہم اور جرات مندانہ اقدام ہے۔ اب کوئی کم عقل یا جذباتی لڑکی کسی اجنبی، ڈرائیور، کزن، ہمسائے، سوشل میڈیا فرینڈ یا اپنے کلاس فیلو کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر گھر سے بھاگ کر Love Marriage یا Court Marriage کر کے اپنے والدین کی عزت خاک میں نہیں ملا سکے گی۔ واضح رہے کہ دو سال میں ضلع راولپنڈی میں گھروں سے بھاگ کر نکاح کرنے میں خوفناک اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ اس سال صرف يكم جنوری سے 30 ستمبر تک تقریبا 1600 لوگوں نے ضلع راولپنڈی میں Love Marriage یا Court Marriage کیں اور تقریبا 1600 ہی طلاقیں ہوئیں۔ اب ضلع راولپنڈی میں بھاگ کر شادی کرنے کا بے ہودہ رواج ختم، Love Marriage یا Court Marriage کے لیے والدین کی اجازت اور رضا مندی لازمی ہو گی۔ والدین کی مرضی کے بغیر نکاح قابلِ قبول نہیں ہو گا بصورت دیگر نکاح خواں سمیت دولہا و دیگر کروانے والے اشخاص کے خلاف مقدمہ درج ہو گا۔ یہ فیصلہ نہ صرف خاندانی نظام کے تحفظ کی ضمانت ہے بلکہ معاشرتی اقدار کی بحالی کی جانب ایک بڑا مثبت قدم ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی یا عورت کے لیے جتنے مسائل شادی کے بعد پیدا ہوتے ہیں، اس کا خمیازہ اسے ساری زندگی بھگتنا پڑتا ہے۔ گھر سے بھاگ کر شادی کر کے وہ نہ صرف اپنے آپ کو داؤ پر لگاتی ہے بلکہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی زندگی بھر شرمندگی کا باعث بن جاتی ہے۔ شادی کے بعد نہ صرف دنیا کے طعنے اس لڑکی یا عورت کو جینے نہیں دیتے بلکہ بعض اوقات انہیں عزت یا غیرت کے نام پر بے دردی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے ہمارا وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وزیراعلی پنجاب مريم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ جہاں آپ اپنے ذاتی مفاد یا ملكی مفاد میں اتنی قانون سازیاں کر رہے ہیں وہاں ایک قانون سازی یہ بھی کر دی جائے کہ گھر سے بھاگ کر Love Marriage یا Court Marriage کرنے والوں کا نکاح والدین کی رضامندی کے بغیر رجسٹرڈ ہی نا کیا جائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے اور کڑی سزائیں دی جائیں، اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ عزت اور غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل نہیں ہونگے اور والدین کی عزت بھی محفوظ رہے گی۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ہماری نوجوان نسل کو ہدایت دے، بے راہ روی سے بچائے اور راہ راست پر لائے۔ آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.