MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

خاتون پولیس اہلکار کو کس نے زندگی کی قید سے آزاد کیا؟ واٹس اپ اسٹیٹس نے راز افشا کردیا

0 57

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اترپردیش(مسائل نیوز)بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع علی گڑھ میں ایک خاتون پولیس کانسٹیبل کی خودکشی کے کیس نے پولیس محکمے میں ہلچل مچا دی ہے۔ خاتون کے خاندان کا الزام ہے کہ ان کی موت خودکشی نہیں بلکہ اذیت و تشدد کا نتیجہ تھی جبکہ پولیس ابھی تک اسے خودکشی ہی قرار دے رہی ہے۔خاتون پولیس اہلکار کی خودکشی کے آٹھ 8 روز بعد متوفی کے بھائی کی تحریری شکایت پر دو پولیس اہلکاروں کے خلاف خودکشی کی ترغیب دینے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خود کشی کرنے والی خاتون پولیس اہلکار 28 سالہ کانسٹیبل ہیم لتا کا آبائی تعلق آگرہ سے تھا تاہم اس کی ڈیوٹی علی گڑھ کے ایک تھانے میں تھی جہاں وہ قریبی علاقے میں کرائے کے مکان میں اکیلی رہائش پذیر تھی۔

خاتون اہلکار ہیم لتا نے 29 نومبر کو اپنے آپ کو پھانسی دیکر خودکشی کی اور انہوں نے مرنے سے قبل اپنے واٹس ایپ پر خودکشی کا اسٹیٹس بھی پوسٹ کیا جسے اُن کی ساتھی خاتون کانسٹیبل نے دیکھا جس کے بعد بعد وہ پولیس ٹیم کے ساتھ ہیم لتا کے گھر پہنچیں تاہم دروازہ بند ہونے کی وجہ سے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو ہیم لتا پھندے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ انہیں فوراً نیچے اتار کر ضلع اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

متوفی خاتون کانسٹیبل کے بھائی اوپیندر نے بتایا کہ ہیم لتا 2015-16 بیچ میں یوپی پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں۔ اس وقت وہ روراور تھانے میں آئی جی ایس آر پورٹل پر کام کر رہی تھیں۔ جب بھی گھر والے شادی کی بات کرتے تو ہیم لتا کہتی تھیں کہ کچھ وقت دیں وہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ہی کسی شخص سے شادی کریں گی۔

- Advertisement -

متوفی کے بھائی کے مطابق کی کانسٹیبل سندیپ کمار سے شادی کی بات چل رہی تھی۔ ہیم لتا نے بتایا تھا کہ جلد وہ ان سے ملاقات کروا دیں گی۔ کچھ وقت بعد کانسٹیبل کا تبادلہ کاسگنج ہو گیا اور ہیم لتا روراور تھانے چلی گئیں اور دونوں کا رابطہ ٹوٹ گیا اور رشتہ آگے نہیں بڑھ سکا اور پھر ہیم لتا کی قربت روراور تھانے کے سب انسپکٹر کُلویر بالیان سے بڑھنے لگی۔ دونوں نے شادی پر رضا مندی بھی ظاہر کر دی تھی اور ہیم لتا نے گھر والوں کو بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق ہیم لتا 10 دن کی چھٹی پر گھر آئی تھیں۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ کُلویر کے ساتھ ان کا رشتہ طے کروا دیا جائے۔ چھٹی ختم ہونے پر وہ واپس تھانے چلی گئیں۔ جب خاندان نے شادی کے بارے میں پوچھا تو ہیم لتا نے بتایا کہ انہوں نے 30 نومبر کو شادی کے لیے چھٹی لی ہے اور کُلویر بھی ساتھ آئے گا، آپ لوگ بات کر لینا۔

اسی دوران سب انسپکٹر کُلویر کو پتا چلا کہ ہیم لتا کی کانسٹیبل سندیپ کمار سے تعلقات رہے ہیں جس پر کُلویر نے اس کانسٹیبل سے ملکر خاتون اہلکار ہیم لتا کو ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر پریشان کرنا شروع کر دیا جبکہ خاندان کو بھی قتل کی دھمکیاں دی گئیں جس سے ہیم لتا شدید ڈپریشن میں چلی گئیں اور انہوں نے یہ انتہائی اقدام اٹھا لیا۔

اوپیندر نے پولیس سے تحریری طور پر شکایت کرتے ہوئے سب انسپکٹر کے علاوہ ایک اور پولیس کانسٹیبل کے خلاف شکایت کی ہے۔ تحریر میں الزام لگایا گیا ہے کہ سب انسپکٹر اور کانسٹیبل نے ہیم لتا کو جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی جبکہ خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور ہیم لتا کو خودکشی پر مجبور کیا۔ اب پولیس ان کی چیٹ ہسٹری اور دیگر ثبوتوں کی جانچ کر رہی ہے جبکہ خاندان انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.