MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس ڈی لسٹ کردیا

0 195

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) سپریم کورٹ نے چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس ڈی لسٹ کردیا۔عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل ہونا تھی۔کیس بنچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈی لسٹ کیا گیا۔ 02 دسمبر کو سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی تھی۔
وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ عمران خان 24 مئی سے ڈی چوک جانے کی کال دے رہے تھے اور وہ عدالتی حکم سے آگاہ تھے یہ بات ریکارڈ سے ثابت ہے۔ جیمرز کے حوالے سے عمران خان نے اپنے جواب میں غلط بیانی کی ہے۔جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے جو شہادتیں ریکارڈ کرے حکومت کی درخواست پہلے ہی غیرموثر ہے،توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے خود معلومات مانگی تھیں جو سامنے لائی گئی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ پچیس مئی والا کیس تو سپریم کورٹ نے نمٹا دیا تھا ،موجودہ درخواست پچیس مئی والے حکم کا تسلسل کیسے ہو سکتی ہی حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے جو توہین عدالت کی کارروئی شروع کرائی جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا عدالت چاہے گی تو کارروائی کرے گی تاہم کوئی ایک عدالتی فیصلہ دکھا دیں جس میں غیرموثر کیس میں توہین عدالت کی کارروئی ہوئی ہو۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت کے سامنے مواد اور عمران خان کا موقف آگیا ہے، عمران خان کہتے ہیں انہیں عدالتی حکم کا علم ہی نہیں تھا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت صرف معاونت کر سکتی ہے فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ کن حالات میں کیا ہوا تھا،پچیس مئی کو حالات کشیدہ تھے، مظاہرین کسی کے کنٹرول میں نہیں تھے،لارجر بنچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا،کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی سب حالات کا جائزہ لینا ہے،دیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی یا لانگ مارچ کا حصہ تھے۔
وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ تحریری جواب کے مطابق یقین دہانی کے بعد ڈی چوک کا اعلان ہوا تو اسد عمر عمران خان کیساتھ کھڑے تھے،عدالتی حکم کے بعد بھی عمران خان ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے۔جسٹس مظاہر نقوی نے کہا اسد عمر نے عمران خان کو عدالتی حکم سے آگاہ کیا تھا اس کا کیا ثبوت ہی ویڈیوز کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے، حکومت فوجداری کارروائی چاہتی ہے تو اس کے تقاضے بھی سمجھے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی،ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی،اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی۔عدالت نے کیس کی نے مزید سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کی تھی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.