بلوچستان کے وزراء اور اپوزیشن لیڈر کی بیرونِ ملک سیر عوامی خزانے پر عیاشی
کوئٹہ (مسائل نیوز)بلوچستان کے وزراء اور اپوزیشن لیڈر کی بیرونِ ملک سیر عوامی خزانے پر عیاشی
بلوچستان جیسے پسماندہ اور مسائل سے بھرپور صوبے میں عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ اسپتالوں میں دوائیں نہیں، اسکولوں میں اساتذہ نایاب ہیں، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اور بجلی و پانی کی قلت روزمرہ کا معمول بن چکی ہے۔ مگر ان حالات کے باوجود صوبائی وزراء اور اپوزیشن لیڈر بیرون ملک “دوروں” کے نام پر سرکاری خرچے پر عیش و عشرت میں مصروف ہیں۔
یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ان “سرکاری دوروں” کا مقصد اکثر صوبے کے مفاد یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے، بلکہ ذاتی تفریح، خریداری، اور سیر و تفریح کے مواقع ہوتے ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے بنے بجٹ کو بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے، اور کسی کو جواب دہی کا خوف نہیں۔
- Advertisement -
جب بلوچستان کے عوام پانی کی ایک بوند کو ترستے ہیں، نوجوان روزگار کے انتظار میں مایوس بیٹھے ہیں، اور صحت کے نظام کی حالت ناگفتہ بہ ہے، تب حکومتی اراکین کا غیر ملکی سیر و تفریح کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
ان عیاشیوں کے اخراجات اگر تعلیم، صحت، یا روزگار کے منصوبوں پر لگائے جائیں تو بلوچستان کی تصویر بدل سکتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے یہاں ترجیحات عوامی نہیں، ذاتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کے عوام ایسے نمائندوں سے سوال کریں جو خدمت کے بجائے سیر و تفریح میں مصروف ہیں۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار امانت ہے، نہ کہ مراعات کا ذریعہ