جلد وطن واپس آکر معاشی اصلاحات کرکے ڈالر کو 160روپے پر لائیں گے
لندن(مسائل نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعوی کیا ہے کہ وہ جلد وطن واپس آکر معاشی اصلاحات کرکے ڈالر کو 160روپے پر لائیں گے‘ پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے لندن سے حکومت کو مشورے دے رہا ہوں. ”ڈان نیوز“ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن ) نے جب حکومت چھوڑی تھی تو پاکستان کی معیشت تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی، پی ٹی آئی کو ایک مستحکم معیشت ملی تھی لیکن پی ٹی آئی نے اپنی نااہلی سے ملک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا اور غیر مستحکم معیشت چھوڑ کر گئی ہے.
- Advertisement -
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ہمارے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے کہ پلک جھپکتے ہی سب ٹھیک ہوجائے، مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمارا مقصد مہنگائی روکنا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ سوئچ آن کریں اور سب ٹھیک ہوجائے. انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی غلطیوں کی سزا عوام کو نہیں دینی چاہیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردیں، کوشش کریں گے کہ اخراجات کم کریں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اتحادیوں سے بات چیت شروع کردی ہے.
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبوں سے بھی بات چیت کی جارہی ہے، جو صوبہ پیٹرول کی سبسڈی میں حصہ نہیں ڈالے گا، وہ صوبہ خود اس کا بوجھ برداشت کرے گا‘ ہماری حکومت روپے کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، ہم معیشت کو واپس ٹریک پر لے کر آئیں گے اور شرح سود بہتر کریں گے. سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ڈالر 160 روپے پر لے کر آئیںسینیٹر اسحاق ڈار نے کہا شہباز شریف عوام کو ٹارگٹ سبسڈی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ وزیر اعظم نے آٹے اور چینی پر عوام کو سبسڈی دی.
اسحاق ڈار نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے کورونا کے دوران غلط اعداد و شمار جاری کیے، حقائق عوام سے چھپائے اور عوام سے جھوٹ بولا‘ کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر ترقی نہیں ہو سکتی، معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے. نون لیگی راہنما نے کہا کہ عمران خان غیر ملکی سازش اور مذہب کارڈز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، ان کو تماشہ بند کرنا چاہیے، سابق وزیر اعظم ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ جس طرح کے سائفر کو عمران خان ایک بیرونی سازش بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس طرح کے مراسلے ہمارے دور حکومت میں بھی موصول ہوتے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بد ترین کارکردگی کے باعث حکومت سے محروم ہوئے، انہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لیے.