کرپٹ سیاستدانوں کو ایک منصوبے کے تحت سزائیں نہیں دی گئیں
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپٹ سیاستدانوں کو ایک منصوبے کے تحت سزائیں نہیں دی گئیں،یہ کرپٹ لوگ 30سال سے چوری کررہے تھے، یہاں بھی طاقتور فورسز بیٹھی ہوئی تھیں جو ان کو سزا نہیں ہونے دے رہے تھے،ان پر90فیصد کرپشن کیسز ہم سے پہلے کے ہیں۔انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، کہ جس طرح آپ سب نے سازش کے خلاف احتجاج کیا، ایک فیصلہ ہوا کہ امریکا کو عادت نہیں ہے کہ وہ پاکستان میں آزادانہ فیصلے کرے، میں کبھی اینٹی امریکا یا اینٹی یورپ نہیں رہاہوں،قوم کی اچھی اور بری پالیسی ہوسکتی ہے، میرے ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات تھے، امریکا کو عادت پڑی ہوئی ہے جب حکم ہوتا تھا تو یہاں سلیوٹ ہوتا تھا، میں نے 15سال امریکا کی جنگ کی مخالفت کی، ہمارے ایک سربراہ مشرف نے ایک دھمکی پر پاکستان کو امریکا کی جنگ میں شامل کردیا، میرا اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ کرکٹ کی وجہ سے بہت زیادہ میل جول رہا ہے، شوکت خانم ہسپتال نہ بنتا اگر آپ مدد نہ کرتے، پاکستان کا نائن الیون سے کوئی لینا دینا نہیں تھا، لیکن مشرف نے ایک دھمکی پر جنگ میں شامل ہوگئے۔
- Advertisement -
قبائلی علاقوں میں سویت یونین کے خلاف ساری جہاد لڑی گئی تھی، ہم نے ان کو کہا تھا سویت یونین کے خلاف لڑنا جہاد ہے، اب ہم ان کو دہشتگرد کہہ رہے تھے،وہ روبوٹس تو نہیں تھے، پہلے جہادی اب دہشتگرد کہہ رہے تھے، پاکستان نے نیٹو اتحادیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ یعنی تین گناہ زیادہ فوجی مارے گئے اور 80ہزار جانیں گئیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی ترجیح تھی کہ ہماری فارن پالیسی ہمارے پاکستانیوں کیلئے ہونی چاہیے، اپنے ملک کو کسی اور کیلئے قربان نہیں کرنا چاہیے، چین ہمارا ہمسایہ ہے ابھرتی ہوئی طاقت ہے ہمارے مفاد میں ہے ہمارے اچھے تعلقات ہوں، اس طرف بھی مسئلہ ہوگیا، روس نے ہمیں دعوت دی تو ہم کیوں دورہ کرناچاہتے تھے کیونکہ روس کے ساتھ ہمارے کبھی تعلقات اچھے نہیں رہے ہم چاہتے تھے کہ گیس کا مسئلہ حل ہوگا اور گندم امپورٹ کرنی تھی، تیل 30فیصد کم ریٹ پر مل رہا تھا۔
ہندوستان روس سے سستا تیل لے رہا ہے، اسی طرح پھر بیسز کی بات آگئی، جب امریکا نے افغانستان سے خلا ء کیا تو وہ چاہتا تھا کہ اڈے ہوں تاکہ افغانستان میں کوئی دہشتگردی ہو تو ہم یہاں سے کنٹرول کرسکیں،لیکن یہ ہمارے لیے ناقابل قبول تھا، کیونکہ ہم پہلے 80ہزار لوگ مروا بیٹھے ہیں کسی نے اس کی تعریف نہیں کی، بلکہ پاکستان پر الزام عائد کیا کہ پاکستان کی وجہ سے افغانستان میں کامیاب نہیں ہوئے۔
اب ہمیں پھر سے کہتے کہ اڈے دو ، میں نے توکبھی نہیں ماننا تھا، پھر وہاں سے یہ سازش تیار ہوئی، یہاں سے میرجعفر اور میر صادق حصہ بن گئے مجھے جولائی میں پتا چل گیاتھا کہ کچھ ہورہا ہے۔ہمارے کرپٹ جو 30سال سے چوری کررہے تھے، کرپشن کے کیسز تھے، ایک منصوبے کے تحت ان کو سزائیں نہیں دی گئیں، یہاں بھی طاقتور فورسز بیٹھی ہوئی تھیں جو ان کو سزائیں نہیں ہونے دے رہی تھیں،ان پر90فیصد کیسز ہم سے پہلے کے ہیں،ہمیں پتا اس وقت چلا جب امریکی ایمبیسی میں ان کی ملاقاتیں بڑھ گئیں، پھرہمارے کچھ منحرف لوگوں سے ملاقاتیں شروع کردی گئیں۔
امریکی سفارتکار لو نے ہمارے سفیر کو دھمکی دی کہ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کو ہٹا دیا گیا توپاکستان معاف کردیا جائے گا، ہاتھ پیر باند ھ کر عدالتیں لگا کر ہٹا دیا گیا، چلو اگر کسی کو لانا ہی تھا تو ہم سے کسی قابل کو وزیراعظم بنا دیتے، اب کرپٹ فیملی کو مسلط کردیا گیا، جن کو سزائیں ہوچکی ہیں۔کیا یورپ میں کسی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔
ان کے اپنے ممالک میں کیا ترجیحات ہیں جب کہ ہمارے ملک میں کرپٹ لوگوں کو مسلط کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں سے امید لگائی ہوئی ہے کہ یہاں پر سائبر مراسلے کی نیوز نکلنے نہیں دی، وہاں بتایا گیا عمران خان غیرمقبول ہوگیا تھااس لیے اس کو ہٹا دیا گیاتھا، سفیر نے خود تسلیم کیا کہ کس طرح کی دھمکی دی گئی، اب سب واضح ہوگیا کہ سب درست ہے، وہاں میڈیا پر خبر نہیں چلی کیوں کہ ان کا میڈیا بھی ریاست کے ساتھ چلتا ہے۔
لیکن اوورسیز پاکستانیوں کوبراہ مہربانی سوشل میڈیا پر ضرور آواز اٹھائیں۔ ہم اس حکومت کو منظور نہیں کریں گے، میں جلسے کررہا ہوں 20مئی کو کال دوں گا، میں نے 26سالوں میں کبھی عوام میں اتنا شعور نہیں دیکھا، کبھی اس قدر متحد نہیں دیکھا، پوری قوم ایک چیز پر اکٹھی ہے کہ غلامی اور امپورٹڈ حکومت نامنظور۔ انہوں نے اتنی بے شرمی کی کہ مسجد نبویﷺ میں ان پر آوازیں لگیں تو ہم پر ایف آئی آرز کاٹ دیں، جب کہ ہم شب قدر کے موقع پر دعا کررہے تھے۔
شیخ رشید کے بھتیجے پر کیس بنا دیا، ان پر پوری دنیا میں نعرے لگیں گے۔ ہم پرامن احتجاج کریں گے، قوم ، غداروں اور اداروں کے سامنے پتا چلے کہ قوم کس طرف کھڑی ہے۔ میرا ساری زندگی کا تجربہ ہے کہ ہماری اشرفیہ کرپٹ اور غلام بھی ہے، ہم کبھی اینٹی امریکا نہیں ہیں، ہم دوستی کرنا چاہتے ہیں غلامی نہیں۔ زلزلہ آیا تو پوری قوم اکٹھی تھی، ہمارے اوپر چیری بلاسم مسلط ہے، پیسے کے پجاری ہیں، ایک بیٹا نو ارب ڈالر کے گھر میں رہتا ہے، بتائیں مریم نواز کے نام چار بڑے محلات ہیں پیسا کہاں سے آیا؟ نہیں بتا سکے۔
باہر بیٹھے لوگ کبھی بھی کھڑے نہیں رہ سکتے۔ یہ کبھی ملک کیلئے اسٹینڈ نہیں لیں گے۔ میں پیغام دیتا ہوں اسی طرح احتجاجی مظاہرے کرنے ہیں، ہمارے اکاؤنٹ ویب سائٹ نامنظور ڈاٹ کام پر مدد کرنی ہے۔کیونکہ ہم نے پوری طرح مہم چلانی ہے۔ وقت ثابت کرے گا پاکستان میں فیصلہ کن لمحہ ہے، جب قوم چوروں ڈاکوؤں سے آزاد ہوجائے گی۔